گوگل میپس کی تصاویر سے غزہ پر اسرائیلی مظالم کا اصل حجم سامنے آگیا

سیٹلائٹ تصاویر میں رہائشی محلے ملبے میں تبدیل اور وسیع شہری علاقے تباہ دکھائی دیے

September 29, 2026 · امت خاص

گوگل ارتھ نے سیٹلائٹ تصاویر اپ ڈیٹ کی ہیں جن میں غزہ میں ہونے والی تباہی کو دیکھا جا سکتا ہے (گوگل گرتھ)

 

گوگل کی نقشوں سے متعلق سروس “گوگل میپس” پر حال ہی میں جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کی تباہ کاریوں کے حجم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تصاویر میں پورے کے پورے رہائشی محلے غائب اور وسیع شہری علاقے ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود متاثرہ عمارتیں اب بھی اپنے مکینوں پر گر رہی ہیں۔

ترک خبررساں ادارے کے مطابق تباہی صرف انفرادی عمارتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پورے کے پورے رہائشی کمپلیکس مٹا دیے، جس سے ان مقامات پر خالی جگہیں بن گئی ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک آبادی سے بھرپور تھے۔ تصاویر نے محلے اور رہائشی بلاکوں کا تفصیلی منظر فراہم کیا ہے، جس سے غزہ کے موجودہ روپ اور جنگ سے پہلے کی حالت کا موازنہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ سیٹلائٹ سینٹر کے مطابق 16 جون 2026 تک پٹی میں موجود کل عمارتوں کا 82 فیصد، یعنی تقریباً 2 لاکھ 1 ہزار 290 عمارتیں نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔

جائزے میں واضح کیا گیا کہ اس مجموعی تعداد میں 1 لاکھ 34 ہزار 422 عمارتیں مکمل طور پر تباہ، 13 ہزار 848 تنصیبات کو شدید نقصان، 28 ہزار 96 عمارتوں کو درمیانہ نقصان پہنچا، جبکہ 24 ہزار 924 تنصیبات کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اسی جائزے کے مطابق تقریباً 3 لاکھ 28 ہزار 627 رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا۔

اسرائیلی سرکاری نقشہ جات کی آفیشل ویب سائٹ (govmap.gov.il) کے تازہ ترین اپ ڈیٹ نے شمالی غزہ کے علاقے کی انتہائی واضح فضائی تصاویر بغیر معمول کی سنسرشپ اور دھندلاہٹ کے ظاہر کر دیں۔ اس کے نتیجے میں بفر زون کے اندر اسرائیلی فوج کے 11 فوجی اڈوں اور تنصیبات کے مقامات بھی بے نقاب ہو گئے۔

“دی ٹائمز آف اسرائیل” کے مطابق 2025 کے لیے جاری ہونے والی یہ تصاویر اسرائیلی حکام کی عام طور پر نافذ کردہ سکیورٹی پالیسی کے برعکس ہیں، جو غزہ اور حساس فوجی اڈوں کے فضائی نقشوں کو دھندلا یا چھپا کر رکھتی ہے۔ اس سنسرشپ کے خاتمے سے پہلی بار شمالی غزہ کی انتہائی واضح تصاویر سامنے آئیں، جن میں فلسطینی شہروں میں ہونے والی تباہی اور فوج کی نقل و حرکت صاف نظر آ رہی ہے۔

تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹس کی جانب سے معاملہ سامنے آنے کے بعد اسرائیلی حکام نے فوراً تصاویر کو ہٹا کر دوبارہ سنسرشپ نافذ کر دی۔