تاجردوست اسکیم ناکام ۔ایف بی آر مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا فیصلہ

ٹیکس اسکیم پر بریفنگ، حکومتی نیک نیتی کا مثبت جواب نہیں ملا، چیئرمین ایف بی آر۔

September 30, 2026 · امت خاص
فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ٹیکس امور سے متعلق ایک منظر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ٹیکس امور سے متعلق ایک منظر

 

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور اور تاجر دوست آسان ٹیکس اسکیم پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے بریفنگ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے تاجروں کے لیے تاریخی رعایتیں اور آسان اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، لیکن افسوس کہ ٹیکس اسکیم میں حکومتی نیک نیتی کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کمیٹی کو بتایا کہ اب تک 10 ہزار 338 دکاندار اس اسکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، رجسٹرڈ نہ ہونے والے تاجروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ضابطے کے تحت پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں اہم ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے رجسٹرڈ کاروباری مراکز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ نئے قواعد کے مطابق کاروباری مراکز کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل آئی سسٹم نصب کرنا اور اسے ایف بی آر کے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کرنا لازمی ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سسٹم سے منسلک نہ ہونے پر کاروباری مقام سیل کیا جا سکے گا، اور ضرورت پڑنے پر پولیس کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو یا اس سے اوپر کا افسر اس حوالے سے تحریری رپورٹ کمشنر کو پیش کرے گا، جس کی انکوائری کے بعد چیف کمشنر کی منظوری سے کاروبار سیل کرنے کا حکم نامہ جاری ہوگا۔ سیل شدہ کاروبار اس وقت تک بحال نہیں ہوگا جب تک مانیٹرنگ سسٹم نصب کر کے اسے ایف بی آر کے نظام سے منسلک نہیں کر دیا جاتا۔