امریکا کا مشرق وسطیٰ میں 10 ہزار اضافی فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ
کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ کا ایران پر الزامات کا سلسلہ، سخت جوابی کارروائی کا عندیہ۔
امریکی بحری بیڑے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کا ایک منظر
امریکی حکام کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں 10 ہزار اضافی فوجی خطے میں بھیجنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق اس نئی تعیناتی میں بحری جہازوں کے گروپ شامل ہیں جن میں 7 ہزار سے زائد سیلرز اور 2 ہزار سے زائد میرینز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی اس کا حصہ ہیں۔
امریکہ کی اس نئی فوجی کھیپ کی تعیناتی کے بعد اکتوبر کے آخر تک خطے میں 3 امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہو سکتے ہیں۔ پہلے سے موجود امریکی اہلکاروں کو ملا کر خطے میں امریکی بحری موجودگی 20 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور سیکڑوں جنگی طیاروں تک پہنچ جائے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ 3 نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد ایران میں کارروائیوں کا دائرہ بڑھانا ممکن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران معاون پائلٹ کی جانب سے مبینہ حملے کی کوشش کے حوالے سے ایران سے تعلق کے ابتدائی شواہد موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے بتایا کہ اس معاملے پر متعلقہ فریق یعنی اسرائیل اور امارات امریکا کے ساتھ مشاورت کے عمل میں شریک ہیں اور ابتدائی معلومات کی بنیاد پر اس حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ اس واقعے میں براہ راست ایران ملوث ہے یا نہیں۔