ایرانی میڈیا کا اماراتی طیارے کا واقعہ فالز فلیگ کارروائی قرار دینے کا دعویٰ

سعودی عرب کی ملاقات کی تردید، قطری وزیراعظم کا نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دینا۔

October 2, 2026 · اہم خبریں
مشرقی وسطیٰ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور سفارتی سرگرمیوں کا منظر۔

مشرقی وسطیٰ کی موجودہ سیاسی صورتحال اور سفارتی سرگرمیوں کا منظر۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے اماراتی طیارے کے واقعہ کو ایک فالز فلیگ کارروائی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مقصد ایران کو ذمہ دار ٹھہرا کر امریکی صدر کو نئی جنگ میں دھکیلنا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ دورہ یو اے ای کے دوران زیر بحث آیا اور اسے حتمی شکل دی گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کو خدشہ ہے کہ وہ انتخابات میں اکثریت حاصل نہیں کر سکیں گے اور اقتدار سے محرومی کے بعد انہیں سنگین مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے وہ اپنی ساکھ بہتر بنانے اور امریکا کو خطے کی ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب کے ایک سینئر عہدیدار نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں سعودی اور اسرائیلی حکام کے درمیان کسی ملاقات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ نیتن یاہو نے اپنے دورہ یو اے ای کے دوران سعودی حکام سے بھی ملاقات کی تھی۔ اتوار کے روز امارات میں صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی تصدیق اسرائیلی اور اماراتی دونوں حکام کی جانب سے کی گئی تھی۔

دریں اثنا، قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود دوحہ اپنی ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں، تو انہوں نے دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ ””یقیناً۔ غزہ میں جو کچھ کیا گیا ہے وہ جنگی جرائم ہیں، اور جو بھی اس کا ذمہ دار ہے وہ جنگی مجرم ہے۔”“۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور دنیا کا کوئی بھی جواز ایسے وحشیانہ حملوں کو درست قرار نہیں دے سکتا۔