جماعت اسلامی کا اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان، گورنر راج کی مخالفت

ملاقات میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور سینیئر سیاست دان مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

October 2, 2026 · اہم خبریں, قومی
جماعت اسلامی کا اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان، گورنر راج کی مخالفت

جماعت اسلامی کا اپوزیشن کی اے پی سی میں شرکت کا اعلان، گورنر راج کی مخالفت

اسلام آباد: جماعت اسلامی نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کا اعلان کردیا ہے۔

اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس اور سینیئر سیاست دان مصطفیٰ نواز کھوکھر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، جسے قبول کرلیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں امن و امان، معاشی صورتحال، عوام کے حق حکمرانی اور جمہوری عمل سے متعلق معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کو معطل یا متاثر کرنے والے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے سیاسی معاملات کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے ہی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تھا، تاہم اب مذاکرات کے لیے کمیٹی کا قیام ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بات چیت صرف رسمی ملاقات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے نتیجے میں عملی پیش رفت بھی ہونی چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے بھی سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات پر بھی مختلف سطحوں پر گفتگو ہوئی ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا مقصد سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ جمع کرکے ملک کو درپیش مسائل پر بات چیت اور ان کے ممکنہ حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے سیاسی اور سماجی تقسیم کم کرنے کے لیے تمام فریقوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق بھی اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتوں کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات دور کرنے اور عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے زیر حراست سیاسی رہنماؤں اور خواتین کی صحت سے متعلق معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے مسائل کا سامنا کرنے والے قیدیوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق اگر حکومت ان معاملات پر پیش رفت کرتی ہے تو سیاسی کشیدگی میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری اور آئینی عمل کے تسلسل کے لیے بھی مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔