حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھ دی

عمران خان سے ملاقات کا معاملہ سب سے اہم ہے اور اس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

October 2, 2026 · اہم خبریں
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھ دی

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھ دی

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، دونوں جانب کے وفود نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ملاقات کی۔

اپوزیشن وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجا شامل ہیں، جبکہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، طارق فضل چوہدری، طلال چوہدری، اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام شریک ہیں۔

مذاکرات میں خیبرپختونخوا کی مجموعی سیاسی و سکیورٹی صورتحال اور پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سمیت مختلف معاملات پر گفتگو متوقع ہے۔ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے دوران اپنے اہم مطالبات سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سلمان اکرم راجا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن مذاکرات میں انصاف اور سیاسی معاملات پر بات کرے گی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور مشاورت درکار ہے، جس کے بعد مذاکرات کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن رہنما عمران خان سے ملاقات کرکے مذاکرات کا ایجنڈا طے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات کا معاملہ سب سے اہم ہے اور اس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

عامر ڈوگر نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے ملاقات اور مذاکرات کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات کو محاذ آرائی میں تبدیل کرنے کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں محمود خان اچکزئی کی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر معاملات کو آگے بڑھانا مشکل ہوگا اور مذاکرات کے لیے کچھ اصول و شرائط طے ہونا ضروری ہیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں مختلف سیاسی معاملات کے ساتھ لانگ مارچ کے معاملے پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کو اپنی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے، جبکہ پارٹی کے مطابق مذاکرات کی پیش رفت کو احتجاجی لائحہ عمل سے بھی جوڑا گیا ہے۔