گورنر راج یا ایمرجنسی سے گریز کیا جائے،سیاسی جماعتیں مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالیں:بلاول بھٹو
اہم بیان، دہشت گردی قومی سلامتی کا مسئلہ ہے،پانی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔
گورنر راج یا ایمرجنسی سے گریز کیا جائے، سیاسی جماعتیں مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالیں: بلاول بھٹو
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا ہے کہ ملک میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر باہمی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ شہرِ قائد میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے آغاز کی تقریب سے خطاب اور سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیانات میں اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی آج پاکستان کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے اثرات براہِ راست کراچی تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ دہشت گردی کے پسِ پشت پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت کا ہاتھ ہے اور افغانستان کی طرف سے بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ دہشت گردی جیسے اہم چیلنج کو محض سیاسی تنازع کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک قومی مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ تمام ادارے اور سیاسی قوتیں مل کر اس ناسور کا خاتمہ کر سکیں۔
پانی اور گیس کی قلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے شکوہ کیا کہ سندھ بالخصوص کراچی کو واٹر ایکارڈ کے مطابق ان کا واجبی حق نہیں دیا جا رہا، حالانکہ واٹر ایکارڈ میں کراچی کو اضافی پانی کی فراہمی کا واضح ذکر موجود ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ صوبے کو پانی کے ساتھ ساتھ گیس بھی پوری مقدار میں فراہم نہیں کی جا رہی، جس کے باوجود سندھ کے وسائل پر طعنے کسے جاتے ہیں۔
سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ان سیاسی مذاکرات کے نتیجے میں اپوزیشن غیرمشروط طور پر اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ بم گرانے یا ہنگامی اقدامات کرنے سے پہلے مسائل کا سیاسی حل نکالنا ہی دانشمندی ہے۔