مکہ دفاعی معاہدہ چیلنج، وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں دوٹوک مؤقف
سعودی عرب پر حوثی حملے، پاکستان اور ترکیہ کا امتحان، سفارتی سرگرمیاں تیز۔
وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ دنیا کے پاس جنگ یا امن کے دو ہی راستے ہیں، اور عالمی برادری کو امن کا راستہ اپنانا چاہیے۔ دستاویزی اور سفارتی رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بند کروائی اور دونوں کو طویل عرصے کے بعد مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر بھرپور آواز اٹھائی اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نیویارک کے دورے کو انتہائی کامیاب قرار دیا اور بتایا کہ وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں سمیت اہم عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف دلیرانہ انداز میں پیش کیا۔
دوسری جانب، یمن سے حوثیوں کی جانب سے مکہ اور سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ ایک بڑے امتحان سے دوچار ہو گیا ہے۔ معاہدے کی شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر بلااشتعال جارحیت جاری رہی یا تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پہنچے تو یہ دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں پاکستان اپنے قومی مفادات اور معاہدے کی ذمہ داریوں میں توازن قائم کرتے ہوئے اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔