امریکی یونیورسٹی میں طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے کیس میں تحقیقات کا دائرہ وسیع

بیانات میں تضاد سامنے آ گیا، انتظامیہ کا ازسرنو جائزے کا اعلان، نفاذ فوری ہوگا۔

October 4, 2026 · اہم خبریں
کارنیل یونیورسٹی جہاں طالبہ سے جنسی زیادتی کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

کارنیل یونیورسٹی جہاں طالبہ سے جنسی زیادتی کا مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

امریکا کی معروف کارنیل یونیورسٹی میں 2024 کے دوران ایک 20 سالہ طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے میں دو سال بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس گھناؤنے مقدمے میں نامزد 7 طلبا سے تفتیش کے دوران ان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف اور کئی مقامات پر شدید متضاد پائے گئے ہیں، جس کے بعد جامعہ میں تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

دستاویزات اور دستیاب رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران نامزد 4 طلبا نے متاثرہ طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق کا اعتراف تو کیا لیکن ان کا مؤقف تھا کہ یہ عمل باہمی رضامندی سے سرزد ہوا۔ اس کے برعکس، دیگر 3 طلبا نے جنسی تعلق کے الزامات میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے سے یکسر انکار کیا۔ متاثرہ طالبہ نے الزام عائد کیا تھا کہ واقعے سے قبل اسے نشہ آور اشیاء اور شراب استعمال کروائی گئیں جس کے نتیجے میں وہ اس حالت میں چلی گئی تھی کہ وہ کسی بھی قسم کی رضامندی دینے کے قابل نہیں رہی تھی، اور اس دوران متعدد افراد نے اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں کارنیل یونیورسٹی کے ایک طلبہ برادری یعنی چی فائی کے گھر پر پیش آیا تھا۔ اس وقت خاتون نے پولیس کو رپورٹ تو درج کروائی تھی تاہم اس مرحلے پر کوئی باضابطہ فوجداری مقدمہ قائم نہیں کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ متاثرہ طالبہ کی جانب سے یونیورسٹی، طلبہ برادری اور 7 افراد کے خلاف ایک دیوانی مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد اس معاملے نے شدت اختیار کر لی اور یہ ایک بار پھر ملکی سطح پر زیرِ بحث آ گیا۔

یونیورسٹی کے صدر مائیکل کوٹلکوف نے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ جامعہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپس کی زندگی میں طلبہ تنظیموں اور برادریوں کے کردار کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ ترجمان کارنیل یونیورسٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انتظامیہ نے واقعے کے فورا بعد جامع تحقیقات کرتے ہوئے چی فائی برادری کو کیمپس سے معطل کر دیا تھا اور بعض طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کرنے سمیت تادیبی کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئی تھیں۔ اس معاملے نے ایک بار پھر امریکی جامعات میں جنسی زیادتی کی شکایات سے نمٹنے کے موجودہ نظام اور طریقہ کار پر ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے۔