ملک میں 24 سال بعد نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا
اہم پیش رفت، عام شہری گھر کے مالک بن سکیں گے، تقریب نسٹ میں ہوئی
ملک میں 24 سال بعد نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا
اسلام آباد میں 24 سال کے طویل وقفے کے بعد تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کردہ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا ہے۔ اس اہم پالیسی کا مقصد ملک میں بے گھر افراد کو اپنی چھت کی فراہمی اور رہائش کے دیرینہ مسائل کا مستقل حل نکالنا ہے۔
نیشنل ہاؤسنگ پالیسی کے اجرا کی یہ تقریب نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کا اہتمام اقوام متحدہ کے ادارے UN-Habitat کے تعاون سے عالمی یوم آبادکاری کے موقع پر کیا گیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ نے بطور مہمان خصوصی جبکہ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔ اس کے علاوہ تقریب میں ماہرین تعلیم، محققین، ہاؤسنگ سیکٹر سے وابستہ اہم شخصیات اور مختلف اسٹیک ہولڈرز نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے پالیسی کی تیاری میں حصہ لینے والے تمام اداروں اور افراد کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نئی پالیسی وزیراعظم کے وژن کی بھرپور عکاس ہے اور ہاؤسنگ کے موجودہ مسائل کا حل اب ایک مشترکہ ایکشن پلان کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شعبے کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
دستاویزات اور تقریب کے شرکاء کے مطابق “نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2026” کے تحت عام شہری اب اپنے ذاتی گھر کے مالک بن سکیں گے۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جامع پالیسی بے گھر افراد کو رہائش کی فراہمی کے لیے بہترین منصوبہ بندی فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ماحول دوست اور پائیدار ہاؤسنگ منصوبوں کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی کے تحت ایسے مکانات تعمیر کیے جائیں گے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور جدید تقاضوں کے مکمل مطابق ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کا موثر نفاذ ملک میں پائیدار شہری ترقی کے فروغ میں انتہائی کلیدی کردار ادا کرے گا۔