مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا ہوگیا
امریکی خام تیل کی قیمت میں 2.24 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 90.26 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا ہوگیا(فائل فوٹو)
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات اور خلیج فارس و آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 2.52 فیصد اضافے کے بعد 102.70 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 2.24 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 90.26 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگا۔
دوسری جانب اماراتی مربن خام تیل کی قیمت میں بھی 0.47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 106.70 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
گزشتہ روز بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں تیل کے ذخائر جاری کرنے کے منصوبے کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات اب بھی برقرار ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا میں استعمال ہونے والے تیل اور ایندھن کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔ حالیہ عرصے میں اس راستے سے گزرنے والے تیل بردار بحری جہازوں کو حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق تازہ واقعے میں قطر کے شمالی علاقے کے قریب ایک آئل ٹینکر کو متعدد پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ادھر امریکا میں سمندری طوفان کے خطرے کے باعث خلیج میکسیکو میں تیل کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔ شیل اور شیورون سمیت مختلف کمپنیوں نے سمندری تنصیبات پر اپنی سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق بدھ تک خلیج میکسیکو میں تقریباً 25.08 فیصد تیل اور 16.37 فیصد قدرتی گیس کی پیداوار طوفان کے باعث بند کی جاچکی تھی۔