فاروق ایچ نائیک کے استعفے کے بعد بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کیلئے نامزد
ججوں کی تعیناتی میں اہم کردار کیلئے چیئرمین پی پی پی کو ذمہ داری سونپ دی گئی، نوٹیفکیشن جلد متوقع
فاروق ایچ نائیک کے استعفے کے بعد بلاول بھٹو زرداری جوڈیشل کمیشن کیلئے نامزد
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سینیٹر فاروق ایچ نائیک کے استعفیٰ کے بعد جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کی اس اہم آئینی فورم کے لیے نامزدگی کا باضابطہ نوٹیفکیشن عنقریب جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
پی پی پی سے تعلق رکھنے والے رکن جوڈیشل کمیشن سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ذاتی وجوہات اور مصروفیات کے باعث بطور ممبر جوڈیشل کمیشن اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو ارسال کر دیا تھا۔ دستابی معلومات اور استعفیٰ کے متن کے مطابق انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آرٹیکل 175اے 2 کے تحت ممبر جوڈیشل کمیشن نامزد ہونے کے باوجود وہ ذاتی مصروفیات کے باعث اب مزید ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے بطور سینیٹر جوڈیشل کمیشن کا رکن بننے کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے والا ایک انتہائی اہم آئینی فورم ہے۔
دریں اثنا، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے مختلف سیاسی شخصیات اور ارکان اسمبلی نے بھی ملاقاتیں کیں۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر سید اویس شاہ نے بلاول بھٹو سے ملاقات کر کے قانون سازی اور اسمبلی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثنا، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی جنید بلند نے پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹس کو ریگولرائز کرنے کی قانون سازی اور 63 انسٹی ٹیوٹس کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلانے کے حوالے سے بریفنگ دی۔
علاوہ ازیں، سکھر کے میئر بیرسٹر ارسلان شیخ نے بھی بلاول بھٹو زرداری کو سکھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی، جس میں میونسپل کارپوریشن کی ڈیجیٹلائزیشن، 1 لاکھ سے زائد گھرانوں کو صاف پانی کی فراہمی اور دریائے سندھ میں اخراج سے قبل 50 فیصد سے زائد گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کا ہدف بھی شامل تھا۔ قومی اسمبلی کے ارکان مسرت رفیق مہیسر، صادق میمن اور سندھ اسمبلی کے ارکان فیاض بُٹ اور زبیر جونیجو نے بھی اپنے اپنے حلقوں کے عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔