ایران کے ہاتھوں سوا 3 ارب ڈالر کے 81 ایئر کرافٹ تباہ ہونے کا امریکی اعتراف

نقصان اٹھانے والے طیاروں میں ایف 35 اے لڑاکا طیارہ اور ای 3 سینٹری بھی شامل ہیں

October 9, 2026 · امت خاص, بام دنیا
ایران کے ہاتھوں سوا 3 ارب ڈالر کے 81 ایئر کرافٹ تباہ ہونے کا امریکی اعتراف

ایران کے ہاتھوں سوا 3 ارب ڈالر کے 81 ایئر کرافٹ تباہ ہونے کا امریکی اعتراف

واشنگٹن: امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے 81 فوجی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرونز تباہ  ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 3.3 ارب ڈالر تک بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان نقصانات میں سب سے زیادہ حصہ ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا ہے، جو انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے، نگرانی، فضائی جاسوسی اور جنگی کارروائیوں میں معاونت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں امریکی فوج کے جدید اور قیمتی فضائی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

نقصان اٹھانے والے طیاروں میں ایف 35 اے لڑاکا طیارہ اور ای 3 سینٹری بھی شامل ہیں۔ ای 3 سینٹری ایک جدید نگرانی کا طیارہ ہے، جس پر نصب بڑا ریڈار فضائی اہداف کی نشاندہی اور فضائی حدود کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کانگریس کی ریسرچ سروس نے کانگریس کے بجٹ آفس کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تباہ یا ناکارہ ہونے والے فضائی اثاثوں کی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔ حتمی لاگت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکی محکمہ دفاع تباہ ہونے والے طیاروں کی جگہ نئے طیارے خریدتا ہے یا نہیں۔

دوسری جانب سی این این کو ذرائع نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ پر امریکا کے مجموعی اخراجات کم از کم 45 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس تخمینے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی لاگت شامل نہیں ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نقصانات کی فہرست میں شامل بعض طیاروں کی مرمت کے بعد انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جاچکا ہوگا۔ ان میں آٹھ ایف 15 اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، جنہیں ستمبر میں اردن کے موفق سالتی ایئربیس پر ایرانی حملے کے دوران معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات تھیں۔

کانگریس کی ریسرچ سروس نے اپنی رپورٹ امریکی محکمہ دفاع، پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل، امریکی سینٹرل کمانڈ اور مختلف خبروں میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر تیار کی ہے۔ رپورٹ میں امریکی قانون سازوں کے لیے یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا فوجی نقصانات اور ان کے ازالے سے متعلق مکمل معلومات فراہم کی جارہی ہیں یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق کانگریس کو یہ بھی جائزہ لینا ہوگا کہ تباہ شدہ طیاروں کی مرمت اور نئے طیاروں کی خریداری کے لیے اضافی فنڈز درکار ہوں گے یا نہیں، اور کیا امریکی دفاعی صنعت ان ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اتحادی ممالک کو امریکی فوجی سازوسامان کی فراہمی پر ممکنہ اثرات بھی زیر غور آسکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کو خاص طور پر زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کی ستمبر میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال خطے میں ایسے 45 ڈرونز ضائع ہوئے، جسے تشویش ناک قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ 2004 سے اب تک اپنے مجموعی ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا تقریباً 35 فیصد حصہ کھو چکی ہے۔ ان نقصانات کے باعث امریکی فوجی صلاحیتوں، دفاعی اخراجات اور دیگر خطوں میں عسکری ضروریات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کی ضرورت بھی اجاگر ہوئی ہے۔