پنجاب میں چار سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد خواتین کے اغوا کے مقدمات درج، لاہور ہائیکورٹ میں انکشاف

لڑکی گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھی اور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے بازیاب کرایا۔

October 9, 2026 · امت خاص
پنجاب میں چار سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد خواتین کے اغوا کے مقدمات درج، لاہور ہائیکورٹ میں انکشاف

پنجاب میں چار سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد خواتین کے اغوا کے مقدمات درج، لاہور ہائیکورٹ میں انکشاف

لاہور: پنجاب میں سال 2021 سے 2025 کے دوران ایک لاکھ سے زائد خواتین کے اغوا کے مقدمات درج ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں ایک لاپتہ لڑکی کے کیس کی سماعت کے دوران سامنے آئیں، جہاں عدالت نے خواتین اور بچیوں کی گمشدگی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔

سماعت کے دوران فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ سکینہ بی بی کو پولیس نے بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا۔ بتایا گیا کہ لڑکی گزشتہ دو سال سے لاپتہ تھی اور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے بازیاب کرایا۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ بچوں اور خواتین سے متعلق معاملات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ اس پر چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سوال اٹھایا کہ اگر کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں تو پھر خواتین کی گمشدگی کے واقعات پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس وقت مزید کتنی لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔ آئی جی پنجاب نے تعداد 500 سے زائد بتائی، جس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ بچیوں کے والدین شدید ذہنی اذیت سے گزر رہے ہوں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے خواتین کے مقدمات میں پولیس کے رویے اور تفتیش کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے کیسز میں روایتی مفروضوں کی بنیاد پر تفتیش کرنے سے تحقیقات متاثر ہو سکتی ہیں۔

پنجاب پولیس کی جانب سے 22 اپریل کو لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق، 2021 سے 2025 کے دوران صوبے کے مختلف شہروں میں خواتین کے اغوا کے 105,577 مقدمات درج ہوئے۔ پولیس حکام کے مطابق ان میں سے زیادہ تر مقدمات حل کیے جا چکے ہیں، تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ 20 اپریل تک 3,256 خواتین لاپتہ تھیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ تمام لاپتہ لڑکیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

ان اعداد و شمار کے بعد خواتین اور بچیوں کی گمشدگی کے مقدمات میں فوری کارروائی، مؤثر تفتیش اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کے نظام سے متعلق سوالات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔