ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مشروط حمایت کردی

نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام سے ملک میں مالی اور سیاسی جوابدہی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔رپورٹ

October 10, 2026 · اہم خبریں, قومی
ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مشروط حمایت کردی

ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان میں 16 نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی مشروط حمایت کردی

اسلام آباد: ورلڈ اکنامک فورم سے منسوب ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 16 نئے صوبے یا مجموعی طور پر 23 سے 25 انتظامی اکائیاں بنانے کی تجویز کی مشروط حمایت کی گئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد حکومتی نظام کو عوام کے قریب لانا اور سرکاری خدمات کی فراہمی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کے قیام سے ملک میں مالی اور سیاسی جوابدہی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم، صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا، بلکہ بہتر حکمرانی، مؤثر عوامی خدمات اور واضح ذمہ داریوں کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا۔

ورلڈ اکنامک فورم سے منسوب مؤقف کے مطابق نئی انتظامی اکائیوں کو مناسب مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات، مضبوط انتظامی صلاحیت اور واضح اختیارات فراہم کرنا ہوں گے، تاکہ وہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً چھ کروڑ ہے۔ اس وجہ سے صوبائی دارالحکومت کئی دور دراز اضلاع سے بہت فاصلے پر واقع ہیں، جبکہ ایک ہی صوبائی حکومت کو مختلف آبادیوں اور انتظامی ضروریات والے علاقوں کے مسائل حل کرنا پڑتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان حالات کے باعث سرکاری خدمات کی فراہمی اور مالی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔