کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر
نرخوں میں ریکارڈ اضافہ، فلور ملز سے مذاکرات، قیمتوں میں کمی کا فیصلہ
کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے اور دکانوں پر صارفین کا رش کی عکاسی کرتی فائل فوٹو۔
کراچی میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع اور ایسوسی ایشن کے رہنما عبدالرؤف ابراہیم کے مطابق شہر میں چھوٹی چکی کا آٹا 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے جبکہ چکیوں کو صاف گندم 160 روپے فی کلو میں مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ عام گندم کی قیمت بھی 145 سے 150 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ ہول سیل مارکیٹ میں ریگولر آٹا 155، میدہ 167 اور فائن آٹا 180 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ ریٹیل میں یہ نرخ مزید بلند ہیں۔
ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت گندم کے معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کوئی بڑا کریک ڈاؤن نہیں کیا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گندم کی درآمد سے بھی مطلوبہ طلب پوری نہیں ہو سکے گی اور حکومت کو محض دعوے کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب، بڑھتی ہوئی گرانی پر نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت فلور ملز ایسوسی ایشن کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں کمشنر کراچی اور سیکرٹری خوراک غلام عباس نائچ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور فی کلو آٹے کی قیمت میں 6 روپے کمی کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد ایکس مل قیمت 161 سے کم کر کے 155 روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے محکمہ زراعت کے ذریعے کسانوں کو 76 ارب 50 کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کی ہے اور صوبے میں گندم کی ریکارڈ پیداوار بھی ہوئی ہے، لہذا بلاجواز قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی فیصلوں کے تحت سندھ حکومت 15 اکتوبر سے فلور ملز کو 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو کے حساب سے رعایتی گندم جاری کرے گی۔