وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کی وکالت کی ڈگری پر سوالات اٹھ گئے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کیٹی کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں ایک اٹارنی قرار دیا تھا، جبکہ وہ خود بھی اپنے لیے وکیل کا لفظ استعمال کرتی رہی ہیں۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کی وکالت کی ڈگری پر سوالات اٹھ گئے
وائٹ ہاؤس اپنی نئی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کا دفاع کر رہا ہے، کیونکہ انھیں اپنی قانونی اسناد کے حوالے سے سوالات کا سامنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کیٹی کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے انھیں ایک اٹارنی قرار دیا تھا، جبکہ وہ خود بھی اپنے لیے وکیل کا لفظ استعمال کرتی رہی ہیں۔
تاہم منگل کو جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ انھوں نے امریکہ میں وکیل بننے کے لیے درکار بار امتحان کس ریاست میں پاس کیا تھا، تو صدر کے ہمراہ کھڑے ہو کر انھوں نے جواب دیا: ’جب میں چین منتقل ہوئی تھی۔‘
ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ کیٹی زکریا جس کسی ریاست میں بھی رہی ہیں، وہاں کی کسی بار ایسوسی ایشن میں ان کی رجسٹریشن موجود ہو۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے کہا کہ وہ ’امریکی عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے غیرمعمولی طور پر اہل اور انتہائی ذہین ہیں۔‘
اپنی اسناد سے متعلق سوالات کے جواب میں کیٹی زکریا نے اس ہفتے ایک بیان میں کہا ’میں نے بین الاقوامی لین دین کے قانون کی پریکٹس کی ہے، اور اس کے لیے تمام مناسب اسناد رکھتی ہوں۔‘
بدھ کے روز نگرانی کرنے والے ایک گروپ ’کیمپین فار اکاؤنٹیبلٹی‘ نے کیلیفورنیا سٹیٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک شکایت دائر کی۔
گروپ نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا کیٹی نے ’بار بار خود کو عوام کے سامنے قانون کی پریکٹس کرنے کی اہل شخصیت کے طور پر پیش کیا، حالانکہ ان کے پاس اس کا لائسنس نہیں تھا، جو کیلیفورنیا کے قانون کے تحت جرم تصور کیا جاتا ہے۔‘
42 سالہ سیاسی حکمت عملی ساز نے 2011 میں کیلیفورنیا کی پیپرڈائن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی، جس کی یونیورسٹی نے تصدیق کی ہے۔
امریکہ میں قانون کی ڈگری حاصل کرنا، قانون کی پریکٹس کرنے کا لائسنس نہیں ہوتا۔
وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نے بدھ کو نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ جب انھوں نے پہلی بار کیبل نیوز چینلز پر آنا شروع کیا تو انھوں نے پیپرڈائن یونیورسٹی سے پوچھا تھا کہ انھیں اپنی شناخت کس طرح کرانی چاہیے۔
ان کے مطابق یونیورسٹی کے صدر نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ خود کو ’وکیل‘ کہہ سکتی ہیں، لیکن ’اٹارنی‘ نہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق زکریا نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کیلیفورنیا میں بار امتحان دیا تھا، لیکن وہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ کیلیفورنیا کا بار امتحان امریکہ کے مشکل ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس معاملے سے براہِ راست واقف ایک شخص نے اخبار کو بتایا کہ زکریا نے یہ امتحان اسی دوران دیا تھا جب وہ اپنی شادی کی تیاری کر رہی تھیں اور اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ چین منتقل ہونے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔
وہ بیجنگ اپنے شوہر کی ایک امریکی پرائیویٹ ایکویٹی فرم میں ملازمت کے باعث منتقل ہوئی تھیں۔ زکرایا کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہاں ’بین الاقوامی لین دین کے قانون‘ کے شعبے میں کام کیا۔
ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق، انھوں نے 2011 سے 2013 تک بیجنگ میں ژونگ لون لاء فرم میں بطور ایسوسی ایٹ کام کیا۔
چین میں صرف چینی شہری ہی قانون کی پریکٹس کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی ملازمین لا فرموں میں دیگر عہدوں پر کام کر سکتے ہیں۔
گذشتہ سال فروری میں زکریا نے قدامت پسند ریڈیو پروگرام ’دی کلے ٹریوس اینڈ بک سیکسٹن شو‘ میں کہا تھا کہ چین میں قیام کے دوران وہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ورلڈ بینک کے لیے بطور بیرونی قانونی مشیر کام کرتی رہی ہیں۔
بی بی سی نے اس بارے میں تبصرے کے لیے ورلڈ بینک اور آئی ایف سی سے رابطہ کیا ہے۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ ورلڈ بینک گروپ بعض اوقات بیرونی لاء فرموں کی خدمات حاصل کرتا ہے، اور یہ فرمیں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ اپنے وکلا کو مختلف کاموں پر کس طرح تعینات کرنا ہے۔
اپنے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق زکرایا، ٹرمپ کے قریبی ساتھی رِک گرینیل کی قائم کردہ قدامت پسند غیر منافع بخش تنظیم ’فکس کیلیفورنیا‘ میں بھی جنرل کونسل کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔