کمسن لڑکیوں سے جنسی زیادتی، برطانوی سیاستدان جیفری ڈونلڈسن کو 15 سال قید
جون میں 1985ء سے 2008ء کے دوران دو کمسن لڑکیوں کے خلاف جنسی جرائم کے 18 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا
کمسن لڑکیوں سے جنسی زیادتی، برطانوی سیاستدان جیفری ڈونلڈسن کو 15 سال قید
برطانیہ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے سابق سربراہ جیفری ڈونلڈسن کو دو کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور استحصال کے جرائم میں مجموعی طور پر 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈسن کو رواں سال جون میں 1985ء سے 2008ء کے دوران دو کمسن لڑکیوں کے خلاف جنسی جرائم کے 18 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے اب ان جرائم پر سزا سناتے ہوئے دونوں متاثرین کے ساتھ کیے گئے جرائم کی سنگینی کو مدنظر رکھا۔
عدالت نے ایک متاثرہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کے جرم میں 11 سال جبکہ دوسری لڑکی کے خلاف جرائم پر 4 سال قید کی سزا سنائی۔ دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے پوری کرنا ہوں گی، جس کے نتیجے میں جیفری ڈونلڈسن کو مجموعی طور پر 15 سال جیل میں گزارنا ہوں گے۔
مقدمے کی سماعت کرنے والے جج پال ریمزی نے جرائم کو انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے متاثرہ لڑکیوں کی زندگیوں پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں۔ جج کے مطابق ایک متاثرہ لڑکی طویل عرصے تک احساسِ شرمندگی کا شکار رہی، جبکہ دوسری اب بھی شدید ذہنی صدمے سے گزر رہی ہے۔
عدالت کے مطابق مجرم نے متاثرین سے معافی نہیں مانگی اور نہ ہی اپنے کیے پر پشیمانی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جیفری ڈونلڈسن جیوری کے متفقہ فیصلے کے باوجود اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے ہیں۔
مقدمے کے دوران ڈونلڈسن کی جانب سے ایک متاثرہ لڑکی کو لکھا گیا خط بھی اہم ثبوت کے طور پر سامنے آیا۔ اس خط میں انہوں نے معافی طلب کرتے ہوئے اپنے گناہوں سے نجات کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
اس مقدمے میں ڈونلڈسن کی اہلیہ ایلینر ڈونلڈسن کو بھی جرائم میں معاونت کرنے کا قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جیفری ڈونلڈسن برطانیہ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ جولائی میں ان سے برطانوی اعزازی خطاب بھی واپس لے لیا گیا تھا۔