خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 120 فیصد تک سکیورٹی الاؤنس کی تجویز

جنوبی اضلاع، ڈی آئی خان، بنوں، کوہاٹ ریجن اور تمام ضم شدہ اضلاع میں تعینات پولیس اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کا 120 فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی تجویز ہے

October 18, 2026 · قومی
خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 120 فیصد تک سکیورٹی الاؤنس کی تجویز

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 120 فیصد تک سکیورٹی الاؤنس کی تجویز

پشاور: خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے، سکیورٹی چیلنج الاؤنس اور جدید اسلحے و آلات کی خریداری سے متعلق سمری گورنر کو ارسال کردی گئی ہے۔ سمری میں مختلف علاقوں میں تعینات پولیس اہلکاروں کے لیے الگ الگ شرح سے سکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے اور مالی سال 2026-27 کے لیے خریداری کے فنڈز جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سمری کے مطابق جنوبی اضلاع، ڈی آئی خان، بنوں، کوہاٹ ریجن اور تمام ضم شدہ اضلاع میں تعینات پولیس اہلکاروں کو بنیادی تنخواہ کا 120 فیصد سکیورٹی چیلنج الاؤنس دینے کی تجویز ہے۔ دیگر آباد اضلاع کے اہلکاروں کے لیے بنیادی تنخواہ کے 100 فیصد جبکہ ہزارہ ریجن کے پولیس اہلکاروں کے لیے 75 فیصد الاؤنس تجویز کیا گیا ہے۔

دستاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، تاہم قربانیوں کے باوجود صوبے کے پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں۔ مجوزہ سکیورٹی چیلنج الاؤنس کی ادائیگی سے ماہانہ 5 ارب 15 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کے اضافی اخراجات متوقع ہیں۔

سمری میں مالی سال 2026-27 کے لیے پولیس کی خریداری کا مختص بجٹ بھی فوری جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ آباد اضلاع میں پولیس کے لیے 11 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 3 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز مانگے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا پولیس نے اسلحے، جدید آلات اور ٹرانسپورٹ کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر 13 ارب 87 کروڑ 10 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز بھی طلب کیے ہیں۔ سمری کے مطابق بجٹ کی کمی کے باعث پولیس کو اسلحے، حفاظتی سامان، نگرانی کے نظام اور نقل و حرکت کے لیے ضروری آلات کی قلت کا سامنا ہے۔

مجوزہ خریداری میں سب مشین گنز، ایم جی-1 اے-3 رائفلیں، 5.56 ملی میٹر کے ہتھیار، بلٹ پروف جیکٹس، بیلسٹک ہیلمٹس، ڈرونز، تھرمل ویپن سائٹس اور دوربینیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈرونز کا مقابلہ کرنے والے جدید نظام، آرمڈ پرسنل کیریئرز اور سنگل و ڈبل کیبن پک اَپس کی خریداری بھی تجویز کی گئی ہے۔

سمری میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پولیس کی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے لیے اسلحے، حفاظتی آلات، نگرانی کے نظام اور ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنا ناگزیر ہے۔