بنگلہ دیش نے خاتون اور مرد کا سر قلم کرنے پر سعودی عرب سے وضاحت مانگ لی
اطلاع نہیں دی گئی، بنگلہ دیشی قونصل خانے کا موقف، جنیوا کنونشن کے حوالے سے سوالات اٹھ گئے
ذر الاسلام اور ستی اختر کی لاشیں بنگلہ دیش پہنچا دی گئیں
بنگلہ دیش نے مکہ میں اپنے 2 شہریوں، نذر الاسلام اور ستی اختر، کی سزائے موت پر سعودی عرب سے وضاحت مانگ لی ہے۔ ان دونوں کو مکہ کی ایک مسجد میں اخلاق باختہ حرکت کرنے پر موت کی سزا دی گئی تھی۔
دونوں کی لاشیں بنگلہ دیش پہنچا دی گئی ہیں جب کہ سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں جس میں ایک جوڑے کے ہاتھ پیچھے بندھے ہیں تاہم یہ اے آئی سے بنی ہیں۔
جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل خانے نے سعودی وزارتِ خارجہ کو باضابطہ مراسلہ بھیج کر نذر الاسلام اور ستی اختر کی پھانسی کی تصدیق اور وضاحت طلب کی ہے۔
قونصل خانے کا کہنا ہے کہ اسے سزا پر عملدرآمد سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا۔ بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے قیدیوں کے نام سفارتی مشن کے ساتھ شیئر کیے تھے جس میں ان مرد اور عورت کے نام بھی تھے، ایک کا جرم زنا لکھا تھا جب کہ دوسرے کے سامنے آئی سی ٹی لکھا تھا تاہم فہرست میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں سزائے موت دی جا رہی ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں غیر اخلاقی عمل کے الزام میں نذر الاسلام عبدالباسط اور ستی اختر کو سزائے موت دی گئی۔ سزا بدھ 14 اکتوبر 2026 کو مکہ ریجن میں نافذ کی گئی۔
وزارت کے بیان کے مطابق عدالت نے دونوں کو مجرم قرار دے کر تعزیر کے تحت سزائے موت سنائی۔ فیصلہ برقرار رہنے کے بعد شاہی حکم سے عملدرآمد ہوا۔ لیکن سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا سعودی عرب نے دونوں بنگلہ دیشیوں کی پھانسی کے بارے میں اہل خانہ یا سفارتخانے کو اطلاع نہ دے کر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی؟ یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ قانونی طور پر یہ ملک بنگلہ دیش کو اس کی وضاحت کرنے کا کس طرح پابند ہے اور کس طرح سے دونوں بنگلہ دیشیوں کی لاشیں بنگلہ دیش پہنچیں گی۔
جدہ میں بنگلہ دیش کے سفارت خانے کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی حکام نے بنگلہ دیش کے سفارت خانے کو ان دونوں کی حراست، مقدمے کی سماعت اور پھانسی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا سعودی عرب بنگلہ دیش کی طرف سے مانگی گئی وضاحت پر جواب دینے کا پابند ہے؟
سابق سفیر ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری کو بیرون ملک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنے ملک سے قونصلر سے رابطے کا کہہ کر اُن سے مدد حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ اس معاملے میں کیا ہوا۔ چونکہ مقدمے کی سماعت سعودی عرب کے داخلی قانونی عمل کا حصہ ہے، اس لیے سعودی حکام پر بنگلہ دیش کو مطلع کرنے کی کوئی قانونی پابندی نہیں۔ تاہم، اگر بنگلہ دیش اس بارے میں جاننا چاہے تو ممکن ہے کہ سعودی حکام جواب دے دیں۔
بی بی سی کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کے اہلِ خانہ اور بنگلہ دیشی سفارت خانے کو مطلع کیے بغیر سزا پر عمل درآمد کر کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔
برطانیہ میں مقیم بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر ریحان رشید کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کو اپیل کے مراحل مکمل ہونے کے بعد سزائے موت سنائی گئی، یعنی یہ کارروائی اچانک نہیں ہوئی۔ انھوں نے بی بی سی بنگلہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیشی سفارت خانے کو اس بارے میں معلوم ہونا چاہیے تھا۔ یہ قابلِ قبول نہیں کہ سفارت خانے کو اس وقت تک کچھ معلوم نہ ہو جب تک متاثرہ شخص یا سعودی حکام اسے اطلاع نہ دیں، کیونکہ یہ عمل 1 دن میں مکمل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویانا کنونشن کے مطابق، ان دونوں شہریوں کو بار بار یہ اطلاع بھی دی جانی چاہیے تھی کہ آیا وہ قونصلر سہولیات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ یہ سہولیات حاصل نہیں کرنا چاہتے تو اس کے ذمہ دار سعودی حکام نہیں ہیں۔