کراچی کو عوام کی مرضی کے بغیر سندھ کا حصہ بنایا گیا، خالد مقبول صدیقی
اہم بیان، نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں، قائد کے پاکستان سے دھکیلا گیا،
ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی خطاب کر رہے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کو یہاں کے عوام کی خواہش اور مرضی کے برعکس سندھ کا حصہ بنایا گیا تھا۔ نارتھ ناظم آباد ریزیڈنٹس کمیٹی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے وقت کراچی ملک کا دارالحکومت تھا اور یہی قائد اعظم کا اصل پاکستان تھا جہاں ان کے اجداد نے ہجرت کی تھی۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ انہیں قائد اعظم کے پاکستان سے نکال کر بھٹو کے پاکستان میں دھکیلا گیا اور 70ء کی دہائی تک کراچی کا انتظامی ڈھانچہ موجودہ صورتحال سے یکسر مختلف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ون یونٹ ختم کرنے کے بعد صوبے بحال کیے گئے تو اس ضمن میں نہ تو کوئی ریفرنڈم کروایا گیا اور نہ ہی عوامی رائے لی گئی، بلکہ ازخود انتظامی تبدیلیاں کرکے کراچی کو سندھ میں شامل کر دیا گیا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ مطالبہ ایم کیو ایم کے قیام سے بھی پرانا ہے۔ سندھ کی 5 ہزار سالہ تاریخ کا حوالہ دینے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخ کا موجودہ ملکی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔