کراچی سے رواں سال کا ساتواں پولیو کیس رپورٹ، ملک بھر میں نئی مہم کا اعلان

نیا کیس سامنے آ گیا، ملک کے 97 اضلاع میں مہم، 2 کروڑ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے،

October 19, 2026 · اہم خبریں
انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

کراچی کے ضلع کراچی شرقی سے پولیو کا ایک نیا کیس سامنے آیا ہے، جس کے بعد سال 2026ء میں ملک بھر میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (نیشنل ای او سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سامنے آنے والے ان 7 پولیو کیسز میں سے 5 کا تعلق خیبر پختونخوا جبکہ 2 کا تعلق سندھ سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس سے قبل پولیو کا آخری کیس دسمبر 2024ء میں رپورٹ ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق پولیو ایک لاعلاج مرض ہے تاہم حفاظتی ویکسین کے بروقت استعمال سے اس سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

نیشنل ای او سی کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں انسدادِ پولیو کی ایک اور خصوصی قومی مہم کا آغاز 2 نومبر سے کیا جا رہا ہے جو 8 نومبر 2026ء تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے دوران کراچی سمیت ملک بھر کے 97 اضلاع کو شامل کیا گیا ہے، جہاں پولیو ورکرز گھر گھر جا کر 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔ مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صوبہ وار ہدف کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کے 13 منتخب اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ سندھ کے 20 منتخب اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو یہ قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا کے 27 منتخب اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار سے زائد بچوں جبکہ بلوچستان کے 31 منتخب اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے 3 منتخب اضلاع میں 1 لاکھ 53 ہزار سے زائد جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے 2 منتخب اضلاع میں 1 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

نیشنل ای او سی نے والدین سے زور دار اپیل کی ہے کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران فیلڈ میں آنے والی ورکر ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اپنے 5 سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔ اداروں کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین کے ساتھ ساتھ بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کا کورس بھی بروقت مکمل کروایا جائے تاکہ اس موذی مرض کو معاشرے سے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔