ترکی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کردیا

ترک آئین کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کو نافذ کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہے

October 21, 2026 · بام دنیا
ترکی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کردیا

ترکی نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کردیا

ترکی کی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کے لیے بل پارلیمان کے اسپیکر کو جمع کروا دیا ہے۔ اب یہ بل ترک پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔

اس معاہدے پر 7 اگست کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔

ترک آئین کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں کو نافذ کرنے کے لیے پارلیمان کی منظوری ضروری ہے۔ اسی قانونی تقاضے کے تحت حکومت نے معاہدے سے متعلق بل پارلیمانی کارروائی کے لیے پیش کیا ہے۔

ترکی اس وقت اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو ممکنہ عسکری معاونت فراہم کرنے کے دائرہ کار اور قانونی طریقہ کار کا جائزہ لے رہا ہے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے معاہدے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر اپنے فوجی دستے بھیجنے یا وہاں حملے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

دوسری جانب سعودی عرب کو یمن میں سرگرم حوثی گروپ کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ترکی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کو عسکری معاونت فراہم کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔