دنیا کو گیس فروخت کرنے والا قطر اب امریکہ سے گیس خریدے گا،2054ء تک تاریخی معاہدہ

قطر انرجی نے امریکی کمپنی چینیئر انرجی کے ساتھ ایل این جی فراہمی کے دو معاہدوں پر دستخط کر دیے

October 23, 2026 · بام دنیا

دنیا کو گیس فروخت کرنے والا قطر اب امریکہ سے سالانہ 40 لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس خریدے گا، 2031ء سے 2054ء تک فراہمی کے معاہدے طے پا گئے۔

دنیا میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل قطر نے امریکہ سے گیس خریدنے کے لیے طویل المدتی معاہدہ کر لیا ہے، جس کے تحت قطر کی سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی سالانہ زیادہ سے زیادہ 40 لاکھ ٹن امریکی ایل این جی خریدے گی۔ معاہدے کے تحت گیس کی فراہمی 2031ء میں شروع ہونے اور 2054ء تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

قطر انرجی کی جانب سے 22 اکتوبر کو جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق امریکی توانائی کمپنی چینیئر انرجی (Cheniere Energy) کے ساتھ دو الگ الگ معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت امریکی ریاست لوزیانا میں واقع سبین پاس اور ریاست ٹیکساس میں واقع کارپس کرسٹی کے ایل این جی منصوبوں سے گیس حاصل کی جائے گی۔

قطر دنیا کے اہم ایل این جی برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے اور ایشیا و یورپ سمیت متعدد خطوں کو قدرتی گیس فراہم کرتا ہے۔ تاہم، امریکی کمپنی کے ساتھ نئے معاہدے کا مقصد صرف قطر کی مقامی ضروریات پوری کرنا نہیں، بلکہ عالمی منڈی میں قطر انرجی کی گیس کی خرید و فروخت اور سپلائی کے ذرائع کو مزید متنوع بنانا بھی ہے۔

قطر کے وزیر مملکت برائے توانائی امور اور قطر انرجی کے صدر و چیف ایگزیکٹو سعد بن شریدہ الکعبی نے معاہدے کو کمپنی کی ایل این جی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی گیس کی اضافی مقدار قطر انرجی کے موجودہ سپلائی ذخیرے کو مزید مضبوط بنائے گی اور کمپنی کو دنیا بھر میں اپنے صارفین کی بدلتی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گی۔

امریکی کمپنی چینیئر انرجی کے مطابق دونوں معاہدوں کے تحت سالانہ 20 لاکھ ٹن ایل این جی سبین پاس اور مزید 20 لاکھ ٹن کارپس کرسٹی سے حاصل کی جائے گی۔ گیس کی قیمت امریکی ہنری ہب قدرتی گیس کے اشاریے سے منسلک ہوگی، جس میں ایک مقررہ فیس بھی شامل کی جائے گی۔

کمپنی نے واضح کیا ہے کہ سبین پاس سے فراہم کی جانے والی سالانہ 10 لاکھ ٹن گیس مجوزہ توسیعی منصوبے سے متعلق حتمی سرمایہ کاری کے فیصلے سے مشروط ہے۔ معاہدوں پر قطر انرجی کے سربراہ سعد بن شریدہ الکعبی اور چینیئر انرجی کے چیئرمین و چیف ایگزیکٹو جیک فوسکو نے دستخط کیے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں نے توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ قطر کی ایل این جی برآمدات کے لیے خلیجی سمندری راستے انتہائی اہم ہیں، جبکہ امریکہ سے حاصل ہونے والی گیس کمپنی کو خلیج سے باہر سپلائی کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کرے گی۔

توانائی کی عالمی منڈی میں اس معاہدے کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ قطر روایتی طور پر ایل این جی فروخت کرنے والا ملک ہے، لیکن اب وہ اپنی بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کے لیے امریکی پیداوار بھی خریدے گا۔ قطر انرجی کے مطابق یہ معاہدے قدرتی گیس کی عالمی توانائی کے نظام میں طویل المدتی اہمیت پر کمپنی کے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔