بلوچستان میں نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانا بھی ضروری ہے، سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی کی شمالی ڈیرہ بگٹی میں پریس کانفرنس،انتظامی اصلاحات اور امن و امان پراظہار خیال
انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں تو سول حکومت اور محکموں تک عوام کو رسائی میں آسانی ہوگی: وزیراعلیٰ بلوچستان— فوٹو:فائل
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں عوام کی دہلیز پر اداروں کی موجودگی یقینی بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں اور نئے صوبوں کے ساتھ چھوٹے ڈویژنز اور اضلاع بنانے کی بھی ضرورت ہے۔
شمالی ڈیرہ بگٹی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوہ سلیمان ڈویژن کی تمام ڈویژنل پوسٹوں کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ منظور شدہ پوسٹوں پر افسران اور عملہ بہت جلد تعینات کردیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں انتظامی یونٹس چھوٹے ہونے سے عوام کو سول حکومت اور محکموں تک رسائی میں آسانی ہوگی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر بحث آج شروع ہوئی ہے، تاہم انہوں نے یہ عمل دو سال پہلے شروع کردیا تھا۔ ان کے مطابق بلوچستان کے مخصوص حالات میں انتظامی ڈھانچے کو عوام کی ضروریات کے مطابق بنانا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ رکھنی میں ترقیاتی عمل کو کرپٹ مافیا اور کمیشن کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ رکھنی میں ترقیاتی عمل شروع ہوچکا ہے اور اسے مثالی ڈویژن بنانے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں فتنۃ الخوارج کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی قابل تحسین ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف بہادر افواج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کی قربانیاں اور کارکردگی قابل فخر ہیں۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اگست کے بعد بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے رجحان میں کمی آنا مثبت پیش رفت ہے۔ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جرات مندانہ کارروائیاں قابل تحسین ہیں۔