قومی ٹیم کی سلیکشن میرٹ پر ہوتی ہے،نئے ٹیلنٹ کو آگے لانا ترجیح ہے،محسن نقوی
تعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ ضروری،اسکول کرکٹ میں ٹیموں کی تعداد تین ہزار سے بڑھانے کا ہدف مقرر
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں سلیکشن میرٹ پر ہوتی ہے، اسکول کرکٹ کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن میرٹ پر ہوتی ہے اور پی سی بی مستقبل میں بھی ٹیلنٹ کو سپورٹ کرتا رہے گا۔
لاہور میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان انڈر 19 ٹیم میں 11 کھلاڑی اسکول کی سطح سے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان میں بھی ترقی ضروری ہے اور امید ہے کہ ملک کے لیے بہت سے گولڈ میڈل حاصل کیے جائیں گے۔
چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ قومی ٹیم کی کارکردگی پر کافی عرصے سے تنقید ہوتی رہی ہے، تاہم کھلاڑیوں کی تیاری اور کرکٹ کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل قومی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے نئے کھلاڑی دستیاب نہیں تھے، جبکہ اب ملک میں موجود ٹیلنٹ کو سامنے لانے اور اسے بہتر انداز میں استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ عاقب جاوید اور دیگر افراد نے اس سلسلے میں بہت محنت کی ہے۔ پہلی مرتبہ اسکول کرکٹ کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور میں 1400 اسکولوں کی ٹیمیں موجود ہیں۔ اگلے سال اسکول کرکٹ ٹیموں کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہو جائے گی۔
چیئرمین پی سی بی کے مطابق رواں سال سے جیتنے والی ٹیم کو 2 کروڑ روپے جبکہ رنر اپ ٹیم کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔ انعامی رقم دینے کا مقصد ٹیموں کی حوصلہ افزائی اور کرکٹ کے مقابلوں میں دلچسپی بڑھانا ہے۔