تہران مذاکرات پر سعودی عرب نے بڑا بیان جاری کردیا
وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اہم وفد کے ہمراہ ایران پہنچ گئے ،سفارت کاری کے ذریعے حل نکالنے کا عزم
فائل فوٹو
ریاض/تہران: علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و امان کے قیام اور تعمیری گفت و شنید کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے مملکتِ سعودی عرب نے ایک اہم سفارتی پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کی رکن ریاستوں کے اعلیٰ سطح نمائندوں کے ہمراہ ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ایرانی قيادت اور سینئر حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
#بيان | امتدادًا لدور المملكة العربية السعودية في إرساء الحوار والسلام الإقليمي والدولي، تؤكد وزارة الخارجية أن الزيارة التي يقوم بها صاحب السمو الملكي الأمير خالد بن سلمان بن عبدالعزيز آل سعود، وزير الدفاع، وممثلو دول اتفاقية مكة للدفاع المشترك، إلى العاصمة الإيرانية طهران للقاء… pic.twitter.com/7XNxclJ0Ob
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) October 26, 2026
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کا بنيادی مقصد خطے میں جاری موجودہ بحران کی کشیدگی کو کم کرنا، سفارتی حل اور باہمی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
ترجمان کے مطابق، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی رکن ریاستوں کے اس اقدام کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان اور ریاستِ قطر کی جانب سے خطے میں ثالثی اور مصالحت کے لیے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کی مکمل حمایت اور معاونت کرنا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق دورہ تہران کا مقصد موجودہ بحران کم اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ملاقاتوں میں پاکستان اور قطر کی طرف سے کی گئی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دوبارہ فوجی کشیدگی روکنے کے لیے بات چیت کی راہیں کھولنے پر زور دیتے ہیں۔ امید ہے کہ خطے میں امن کیلیے موجودہ بحران کے خاتمے کا معاہدہ طے پا جائے۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کے مطابق تہران میں سعودی وزیر دفاع کی آمد اور پاکستان و قطر کی ثالثی کی حمایت خطے میں پائیدار امن کی بحالی، کشیدگی کے خاتمے اور سیاسی و سفارتی توازن کے قیام میں اہم ترین میل پتھر ثابت ہوگی۔