کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد جبر سے نہیں دبائی جا سکتی،اسحاق ڈار
تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔
کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد جبر سے نہیں دبائی جا سکتی،اسحاق ڈار
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری جدوجہد اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ کسی قوم کی خواہشات کو طاقت اور تشدد کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یومِ سیاہ جموں و کشمیر کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نمائندوں، دفتر خارجہ کے حکام اور ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کی سرینگر آمد کے بعد جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک طویل اور تکلیف دہ دور شروع ہوا۔ ان کے مطابق، تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیری عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محروم ہیں۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام طویل عرصے سے بنیادی آزادیوں پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم ان کا حوصلہ اور عزم برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری نسلوں کی قربانیاں انصاف، امن اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے لیے ان کی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جموں و کشمیر کے تنازع کے حل سے متعلق متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ پاکستان کے مؤقف کے مطابق اس دیرینہ تنازع کے منصفانہ، پُرامن اور مستقل حل کے لیے عالمی برادری کی مؤثر کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، بعد میں ہونے والی قانون سازی، آزادیوں پر پابندیاں، آبادیاتی اور سیاسی تبدیلیاں، جبکہ کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی نظر بندیاں، عوام میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید بڑھاتی ہیں۔
وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سامنے آنے والی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر عالمی برادری کی مسلسل توجہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی فورمز پر ان کے حقوق کا معاملہ اٹھاتا رہے گا۔