مودی حکومت کے ڈیٹا تحفظ قانون کے خلاف 21 بھارتی میڈیا ادارے سپریم کورٹ پہنچ گئے

عدالت نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو میڈیا اداروں کے خدشات پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت

October 27, 2026 · بام دنیا
مودی حکومت کے ڈیٹا تحفظ قانون کے خلاف 21 بھارتی میڈیا ادارے سپریم کورٹ پہنچ گئے

مودی حکومت کے ڈیٹا تحفظ قانون کے خلاف 21 بھارتی میڈیا ادارے سپریم کورٹ پہنچ گئے

نئی دہلی: بھارت میں 21 میڈیا اداروں نے مودی حکومت کے ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ کے قانون کی بعض متنازع شقوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو میڈیا اداروں کے خدشات پر تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کی نجی زندگی کے تحفظ اور صحافتی آزادی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔

درخواست دائر کرنے والے میڈیا اداروں کی نمائندگی ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن کر رہی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کی بعض شقیں صحافتی کام میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، پیشگی سنسرشپ کا خدشہ پیدا کر سکتی ہیں اور بعض خبر رساں اداروں کے لیے اپنے کام کو جاری رکھنا مشکل بنا سکتی ہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق قانون کی متنازع شقیں تحقیقاتی صحافت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

درخواست دینے والے اداروں میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی کی ملکیت والے میڈیا گروپس کے علاوہ این ڈی ٹی وی اور سی این این نیوز 18 بھی شامل ہیں۔

قانون کی متنازع شقوں پر عمل درآمد مئی 2027 سے شروع ہونا ہے۔