بھارتی عدالت کا مودی اور اڈانی سے متعلق دستاویزی فلم ہٹانے کا حکم

اڈانی انٹرپرائزز کے ہتکِ عزت کے مقدمے پر عدالتی حکم، یوٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایات

October 27, 2026 · بام دنیا

بھارتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی 8 اکتوبر 2025 کو بھارت کے ضلع رائے گڑھ کے علاقے اُلوی میں نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی افتتاحی تقریب کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یادگاری تختی پیش کر رہے ہیں۔ — رائٹرز

نئی دہلی: بھارتی عدالت نے ہاٹ میل کے شریک بانی صبیر بھاٹیہ کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی اور ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی پر اقربا پروری کے الزامات سے متعلق آن لائن دستاویزی فلم ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم اڈانی انٹرپرائزز کی جانب سے ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا۔

مشرقی بھارتی شہر کولکتہ کی ہائی کورٹ میں اڈانی گروپ کی مرکزی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز نے مؤقف اختیار کیا کہ دستاویزی فلم میں متعدد غلط معلومات شامل ہیں اور سوشل میڈیا پر اسے لاکھوں بار دیکھے جانے کے بعد کمپنی کے بعض سرمایہ کاروں نے بھی اس حوالے سے سوالات کیے۔

پیر کی رات جاری ہونے والے عدالتی حکم میں کہا گیا کہ 36 منٹ کی دستاویزی فلم ”دی فرینڈشپ فائلز“ نہ تو کوئی خبر ہے اور نہ ہی واقعات کی محض روداد، بلکہ یہ ڈرامائی انداز میں پیش کی گئی کہانی ہے۔

عدالت نے یوٹیوب، ایکس اور میٹا کے انسٹاگرام کو فلم کی متعدد پوسٹس ہٹانے کا حکم دیا ہے، جبکہ صبیر بھاٹیہ کو بھی ویڈیو کی تشہیر اور اسے پھیلانے سے روک دیا گیا ہے۔ عبوری حکم 31 جنوری 2027 تک نافذ رہے گا۔ مقدمے کی سماعت جنوری میں دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

اڈانی انٹرپرائزز نے عدالت میں کہا کہ کمپنی حکومتی پالیسیوں پر تعمیری تنقید یا کاروباری ارتکاز پر بحث روکنا نہیں چاہتی، تاہم صبیر بھاٹیہ نے اہم حقائق چھپائے ہیں۔ کمپنی کے مطابق فلم میں لگائے گئے الزامات سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

امریکا میں مقیم صبیر بھاٹیہ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ مقدمے میں 50 کروڑ بھارتی روپے، یعنی 52 لاکھ 50 ہزار ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ سچ ان کے ساتھ ہے۔ بھاٹیہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں دستاویزی فلم نے اڈانی انٹرپرائزز کو پریشان کیا ہے اور اعلیٰ ترین سطح پر بھی اس کا اثر محسوس کیا گیا ہے۔

صبیر بھاٹیہ ہاٹ میل کے شریک بانی ہیں، جو ایک وقت میں مقبول ای میل سروس تھی۔ انہوں نے یہ سروس 1997 میں مائیکروسافٹ کو فروخت کردی تھی۔

مودی اور اڈانی کے تعلقات پر الزامات

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مخالفین طویل عرصے سے ان پر گوتم اڈانی کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے اور کاروباری شخصیت کو مبینہ طور پر فائدہ پہنچانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ بھارتی حکومت اور اڈانی گروپ ان الزامات کی بارہا تردید کرچکے ہیں۔

دستاویزی فلم میں آرکائیو فوٹیج کے ذریعے مودی اور اڈانی کے تعلقات کی تاریخ بیان کی گئی ہے، جس کا آغاز دونوں شخصیات کی آبائی ریاست گجرات سے ہوتا ہے۔

فلم میں 2019 میں اڈانی گروپ کی جانب سے چھ ہوائی اڈوں کے ٹھیکے حاصل کرنے پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس وقت حکومتی قواعد میں تبدیلی سے اڈانی گروپ کو فائدہ پہنچا، تاہم اڈانی گروپ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا اور کسی قسم کی جانبداری نہیں برتی گئی۔

پولیس نوٹس اور سیاسی ردعمل

عدالتی کارروائی سے قبل بھارتی ریاست مہاراشٹر کی پولیس نے 19 اکتوبر کو صبیر بھاٹیہ کو دستاویزی فلم ہٹانے کا نوٹس بھیجا تھا۔ مہاراشٹر میں مودی کی حکمران جماعت کا اتحاد اقتدار میں ہے۔ پولیس نوٹس میں کہا گیا تھا کہ فلم میں سنگین اور غیر مصدقہ الزامات لگائے گئے ہیں۔

مودی کے سیاسی مخالفین اس فلم کو مسلسل شیئر کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس میں دونوں شخصیات کے بارے میں پہلے سے اٹھائے جانے والے سوالات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

علاقائی اپوزیشن رہنما اور مودی کے ناقد راج ٹھاکرے نے بھی یہ فلم اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی، جہاں اسے 48 لاکھ مرتبہ دیکھا گیا۔ تاہم انہوں نے ممبئی پولیس کمشنر کی درخواست پر اسے ہٹا دیا۔

مودی کی ایک اور سیاسی مخالف اور رکنِ پارلیمنٹ مہوا موئترا نے 11 اکتوبر کو دستاویزی فلم پوسٹ کی تھی۔ انہوں نے پیر کی رات ایکس پر لکھا کہ فلم اب بھی ان کی ٹائم لائن پر موجود ہے اور لوگوں کو اسے دیکھنا چاہیے۔

اڈانی انٹرپرائزز، وزیراعظم کے دفتر، صبیر بھاٹیہ اور متعلقہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔