بھارتی پنجاب میں سکھوں نے مسجد بنا دی
مسلمانوں کے پاس اپنی عبادت کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ مسجد نہ ہونے کے باعث انہیں نماز ادا کرنے کے لیے چار کلومیٹر دور دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا۔
بھارتی پنجاب میں سکھوں نے مسجد بنا دی
بھارتی پنجاب میں سکھ، ہندو اور مسلمان مل کر پرانی مساجد کی بحالی اور نئی مساجد کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔ تقسیمِ ہند کے دوران 1947 میں فرقہ وارانہ فسادات کے باعث سینکڑوں مساجد ویران ہو گئی تھیں یا انہیں گوداموں اور مویشیوں کے باڑوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا، تاہم اب مقامی آبادی انہیں دوبارہ عبادت کے لیے بحال کرنے میں مصروف ہے۔
پنجاب کے ضلع فتح گڑھ صاحب کے گاؤں جکھے وال میں 87 سالہ گاجو خان اس امید کے ساتھ زیرِ تعمیر مسجد میں بیٹھے ہیں کہ اپنی زندگی میں ایک مرتبہ پھر گاؤں میں اذان کی آواز سن سکیں گے۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے زیادہ تر مالی تعاون گاؤں میں آباد سکھوں اور ہندوؤں نے فراہم کیا ہے، جہاں صرف 18 مسلمان خاندان رہتے ہیں۔
گاجو خان کے مطابق تقسیمِ ہند کے دوران ان کے والدین نے انہیں اور ان کے دو بھائیوں کو خونریزی سے بچانے کے لیے دوسرے گاؤں بھیج دیا تھا۔ اس دوران سکھ پڑوسیوں نے انہیں پناہ دی، جبکہ ان کے والدین اپنے آبائی گاؤں میں قتل کر دیے گئے۔
گاؤں کی 77 سالہ سکھ خاتون بی بی راجندر کور نے مسجد کی تعمیر کے لیے اپنے پوتے کو زرعی زمین کا ایک حصہ عطیہ کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے عبادت گاہیں موجود تھیں، لیکن مسلمانوں کے پاس اپنی عبادت کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ مسجد نہ ہونے کے باعث انہیں نماز ادا کرنے کے لیے چار کلومیٹر دور دوسرے گاؤں جانا پڑتا تھا۔
اسی طرح ضلع سنگرور کے گاؤں پوناوال میں ہندو خاندان سے تعلق رکھنے والے جسپال شرما نے مسجد کی تعمیر کے لیے زمین عطیہ کی۔ فروری میں مسجد کے افتتاح کے موقع پر پورے گاؤں کے لیے دعوت کا اہتمام بھی کیا گیا۔ ان کے مطابق گاؤں کے ہندوؤں اور سکھوں نے مل کر تعمیر میں حصہ لیا، کسی نے رقم دی تو کسی نے اینٹیں اور سیمنٹ فراہم کیا۔
ملیرکوٹلہ کے گاؤں عمرپورہ میں بھی سکھ خاندان کے افراد نے ایک پرانی مسجد کی بحالی میں کردار ادا کیا۔ سکھ شہری سکھجندر سنگھ پندھر کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا اور مسلمان عید جبکہ سکھ گروپورب کے تہوار مل جل کر مناتے ہیں۔
پنجاب کے موجودہ شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران غیر مسلم دیہاتیوں کے تعاون سے 165 سے زیادہ مساجد کی تعمیر یا بحالی میں مدد فراہم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تقسیمِ ہند نے پنجاب کے معاشرتی رشتوں کو نقصان پہنچایا، لیکن آج بھی دیہات میں عام لوگ ایک دوسرے کی حفاظت اور مدد کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب مذہبی اختلافات اور سماجی تقسیم پر بحث جاری ہے۔ بھارتی پنجاب کے ان دیہات میں مختلف مذاہب کے لوگوں کا مل کر عبادت گاہوں کی بحالی کے لیے کام کرنا باہمی احترام، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی ایک نمایاں مثال بن رہا ہے۔