آزاد کشمیر کا یوم تاسیس اور آزاد حکومت کی نظریاتی اٹھکیلیاں
چار روز قبل آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے یوم تاسیس کے حوالے سے حسب معمو ل سرکاری تقریبات کا اہتمام کیا۔
آزاد کشمیر کا یوم تاسیس اور آزاد حکومت کی نظریاتی اٹھکیلیاں
سردار عتیق احمد خان سابق وزیراعظم آزاد کشمیر
چار روز قبل آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے یوم تاسیس کے حوالے سے حسب معمو ل سرکاری تقریبات کا اہتمام کیا۔بیانات اور اشتہارات بھی جاری کیے گئے۔کسی بھی ریاستی حکومت کا یوم تاسیس بڑی اہمیت کا حامل ہے لیکن آزاد کشمیر کا یوم تاسیس تو اس لیے بھی بے پناہ اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ساری مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کے آزاد حصے کا یوم تاسیس ہے جس کے ذریعے مقبوضہ علاقوں کی مکمل آزادی،تحریک آزادی کشمیر،ریاست کے مستقبل اور ساری ریاست جموں وکشمیر کاپاکستان کے ساتھ الحاق تک کی رہنمائی اور اس کا تسلسل برقرار رکھا جا نا مقصود ہے۔
آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں رکھی گئی جس کی چھے رکنی کابینہ میں سے ایک کرنل علی احمد شاہ صاحب کا تعلق آزاد کشمیر سے جبکہ باقی پانچ وزراء کا تعلق مہاجرین جموں وکشمیر سے تھا۔جن میں میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ،خواجہ غلام دین وانی،خواجہ ثناء اللہ شمیم، سید نذیر حسین شاہ،چوہدری عبداللہ بھلی شامل تھے۔آزاد کشمیر کی یہ حکومت تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کی پہلی حکومت تھی جس کے خدوخال اور مقاصد مہاجر وانصار کا تناسب اور توازن اور مستقبل کے لائحہ عمل کی جامع نشاندہی کرتے ہیں۔
وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت اور افادیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور بطور خاص اس لیے بھی 1947 ء تک دی جانی والی قربانیوں میں آج تک بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔یہ ساری کی ساری قربانیاں اس خطے میں اسلام کی سربلندی، پاکستان کی تکمیل اور جموں وکشمیر کے عوام کے بنیادی اور پیدائشی حق خودارادیت کے حصول کے لیے ہیں۔
اس تمہید کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ موجودہ دور کے حکمرانوں،سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنے میں آسانی ہو کہ یہ یوم تاسیس منانا کوئی رسمی کاروائی نہیں ہے بلکہ ہمارے مشن کا حصہ اور نامکمل تحریک آزادی کشمیر کا تسلسل ہے۔
جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کشمیر کی بنیاد 19 جولائی 1947 سرینگر کی آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی قرار داد الحاق پاکستان،23 اگست 1947 کو نیلہ بٹ کے مقام سے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی قیادت میں شروع ہونے والی تحریک آزادی اور ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرے پر قائم ہے۔
اس حالیہ یوم تاسیس کے موقع پر سرکاری اشتہارات پر قائد اعظم،چوہدری غلام عباس اور بانی صدر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی تصاویر اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ سب کو حذف کردیا گیا جو اگر اتفاقاً یا سہواً ہوگیا ہو تو آزاد حکومت کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔اور اگر خدانخواستہ یہ سب کچھ دانستہ طورپر کیاگیا ہے تو انتہائی خطرناک اور تشویشناک ہے۔اس پر مزید ستم یہ کہ ایک بے مقصد، لایعنی، اور انتہائی ناقابل قبول عبارت”کشمیر ہے پاکستان“ کو نعرے کی صورت دے کر بعض اشتہارات کودیواروں اور سوشل میڈیا کی زینت بنایا گیاجوہر محب وطن شخص کے لیے ایک طرف حیرت ناک ہے تو دوسری طرف سیاسی فضا ء میں پہلے سے موجود شکوک وشبہات کی تقویت کا باعث ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آج راتوں رات ایسی کون سی آفت ٹوٹ پڑی ہے کہ ہماری طرف سے ہندوستان کے پانچ اگست 2019 ء اقدامات جن کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر کا جغرافیہ انتظامی حیثیت اور آبادی کا تناسب تبدیل کیا گیا ہم بھی خدانخواستہ جلدی میں اسی طرز کے اقدامات کا راستہ ہموار کر رہے ہیں جس سے دنیا کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ اگر ایک طرف ہندوستان کی جانب سے عالمی قراردادوں کی خلاف ورزی کی گئی تو دوسری طرف سے بھی اسی قسم کے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
آج ہم اللہ کی مہربانی اور فیلڈ مارشل کی جرأت مندانہ اور مومنانہ عسکری قیادت میں ”بنیان مرصوص“ اور ”معرکہ حق“ جیسے کارنامے سرانجام دے کر ہندوستان کو دنیا بھر میں پسپائی کے راستے پر ڈال چکے ہیں۔یوں بھی مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کو ہر سطح پر اخلاقی اور سفارتی برتری حاصل ہے کیوں کہ ہندوستان نے تقسیم ہند کے اصولوں،اپنے عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں،جموں وکشمیر اور پاکستان کے ساتھ طے شدہ اقرار ناموں،عالمی قراردادوں اور شملہ معاہدہ تک ہر قدم پر پے درپے خلاف ورزی کرکے خو د اخلاقی مجرموں کی صف میں کھڑا کر دیاہے جبکہ اللہ کے کرم سے پاکستان نے روز اول سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر پر کسی بھی بد عہدی، خلاف ورزی یا وعدہ شکنی کا ارتکاب نہیں کیا جس کے باعث تمام تر کمزوریوں کے باوجود پاکستان کو دشمن کے مقابلے میں برتری حاصل ہے۔میرا پرزور مطالبہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر اپنی تمام سرکاری تقریبات میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کا اسی طرح اہتمام کرے جیسے ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
نظریہ الحاق پاکستان اور کشمیر بنے گا پاکستا ن سے روگردانی تحریک آزادی کی پشت میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔سرکاری اشتہارات سے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ دانستہ حذف کرنا مجرمانہ فعل ہے۔سرکاری اشتہارات سے آزاد کشمیر کے بانی صدر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی تصویر کو ہٹا دینا ایک احمقانہ اقدام ہے۔
یہ بات حکومت،اپوزیشن اور ماہرین سب کو ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے علاوہ کوئی دوسرا نعرہ ریاست جموں وکشمیر میں پاکستان کے دفاع اور تحریک آزادی کے تسلسل کی ضمانت نہیں دے سکتا۔نظریہ الحاق پاکستان اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ کشمیری عوام کی پاکستان کے ساتھ لازوال محبت،عقیدت اور وابستگی کی بنیاد ہے۔کشمیر بنے گا پاکستان کے سیاسی عقیدے پر کسی قسم کا کوئی سمجھو تہ قابل قبول نہیں۔کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ جموں وکشمیر کے عوام غالب ترین اکثریت کی آواز،قربانیوں کا تسلسل اور کامیاب مستقبل کی ضمانت ہے۔جس عقیدے،نظریے اور نعرے کی بنیاد پر مسلم کانفرنس اور ہماری قیادت نے نہ صرف موجودہ آزادی حاصل کی بلکہ دشمن کے تمام تر دباؤ کے باوجود آج تک اس کا کامیاب تحفظ بھی کیا اور اسے پاکستان کا بازوئے شمشیر زن بنائے رکھا اس کی موجودگی میں کوئی دوسراتجربہ سراسر حماقت ہے۔اسی طرح کی نظریاتی اور فکری آوارگی کے نتیجے میں ہم مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے نہیں روک سکے۔نظریہ الحاق پاکستان کے علاوہ دوسری ہر سوچ اور فکر ریاست جموں وکشمیر کی وحدت پر حملہ اور تقسیم کشمیر کی طرف جاتی ہے۔
تحریک آزادی کشمیر اور تحریک الحاق پاکستان آزادی ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔جموں وکشمیر کی وحدت ساری مقبوضہ ریاست کی آزادی اور اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق آزادی ہند کے اصولوں کا تسلسل ہے جس سے کسی قسم کا انحراف اس خطے میں دو قومی نظریئے کے اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے۔ریاست کی تقسیم جموں وکشمیر کے عوام یا اہل پاکستان کی نہیں بلکہ پاکستان کے ازلی دشمنوں کی دیرینہ خواہش ہے۔پاکستان اور جموں وکشمیر کے مفادات،سلامتی اور بقاء کے تقاضو ں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔دریا کے درمیان سواری تبدیل کرنے کا فطری نتیجہ غرق ہونے کے سوا کچھ نہیں۔
کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کا ایک مطلب پانچ لاکھ سے زائد شہدائے جموں وکشمیر کے مقدس خون کے تحفظ اور اس پر پہرے داری ہے۔ اس نعرے کو چھیڑنے یا پس پشت ڈالنے کا مطلب آزادی ہند کے بنیادی اصولوں سے بغاوت ہے جس کا نتیجہ خدانخواستہ سارے خطے میں کسی بڑی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ مسئلہ کشمیر پر پا کستان کے 80 سالہ موقف کا ترجمان ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو تحریک آزادی اور ریا ست جموں وکشمیر سے الگ کر کے دیکھنا مایوس اور شکست خوردہ ذہنیت کا عکاس ہے۔حکومت آزاد کشمیر اور اس کی انتظامیہ تحریک آزادی کشمیر کے کسی بھی پہلوسے مذاق کرنے سے باز رہے۔جموں وکشمیر کے عوام کسی بھی حکومت یا طبقے کو پاکستان کے دفاعی مفادات سے کھیلنے اور چھے لاکھ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی مکمل آزادی اور ساری ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق تک ناگزیر اور میگناکارٹا کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی طرح بعض عاقبت ناادیش لوگ ”ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے“ کا نعرہ بھی بلند کرتے ہیں لگتا ہے یہ لوگ اس کے مضمرات اور اثرات سے مکمل بے بہرہ ہیں۔ایک طرف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف درجنوں بار یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کشمیری عوام کے حق خوادارادیت کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہی وہ درست موقف ہے جو کشمیری عوام،پاکستان اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت عالمی طورپر تسلیم شدہ موقف ہے۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے اس جاندار اور قابل تحسین موقف کی موجودگی میں ایسی نعرے بازی جو کشمیریوں کو اپنی شناخت سے محروم کرنا چاہتی ہو ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ یہ نعرہ جموں وکشمیر کے عوام سے ان کی شناخت چھیننے کے مترادف ہے اور ان کے تشخص پر حملہ ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے معاملے میں جموں وکشمیر کے عوام پاکستان کے قیام سے پہلے کے پاکستانی ہیں۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہم سب دل وجان سے پاکستانی ہیں لیکن ہندوستان کے خلاف مسئلہ کشمیر کا ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے کشمیر ی تشخص کو برقرار رکھیں تاکہ بین الاقوامی عدالت میں ہمارا مقدمہ متاثر ہونے سے بچا رہے۔جموں وکشمیر کے عوام کا ریاستی تشخص مسئلہ کشمیر پر ہندوستان کے خلاف خود پاکستان اور پاکستان کی تائید و حمایت اور اس کے موقف کی تقویت کا باعث ہے اور یہ تشخص جتنا جموں وکشمیر کے عوام کے مفاد میں ہے اتنا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
ہر خاص وعام یہ جانتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تین اہم بنیادی فریق ہیں جس میں جموں وکشمیر کے عوام،پاکستان اور ہندوستان تینوں اپنی اپنی جگہ تسلیم شدہ اہمیت کے حامل ہیں۔اگر درمیان میں ذہنی عیاشی کے لیے کوئی شخص ایسی نعرہ بازی کرے جس کے نتیجے میں لگے کہ کشمیری عوام اپنی شناخت اور ہندوستان کے خلاف اپنے حق خود ارادیت سے دستبردار ہورہے ہیں اور اب وہ کشمیری نہیں رہے تو اس کا فطری نتیجہ سامنے آسکتا ہے کہ بنیادی فریق ہی دستبردار ہوگیا ہے اور اب سارا معاملہ پاکستان ہندوستان اوردو ملکوں کی حکومتوں کے درمیان رہ گیا ہے تو اس سے اگلے مرحلے کے لیے کسی نئے تجربے کی ضرورت نہیں بلکہ خدانحواستہ اس صورت میں سند ھ طاس معاہد ہو،پاکستان کے خلاف ہندوستانی آبی جارحیت ہو یا آئے دن کی ہندوستان کی جانب سے ہماری سرحدات کی خلاف ورزی ہو سب تجربات ہمارے سامنے ہیں۔جموں وکشمیر کے عوام کو ریاستی تشخص سے محروم کرکے انہیں ہندوستان میں تحلیل کرنا کانگریس اور بی جے پی کی مشترکہ دیرینہ خواہش ہے۔
کشمیر بنے گا پاکستان اور پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ جولو گ اسے ایک ساتھ پڑہنے میں بخل کرتے ہیں وہ تاریخ اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ بے انصافی کر رہے ہیں۔کشمیر بنے گاپاکستان کا نعرہ نہ صرف مسئلہ کشمیر پرامن منصفانہ حل اور پاکستان ہندوستان کے تعلقات میں باوقار بہتری کے لیے بلکہ جنوبی ایشیاء کے پائیدا ر اور مستقل امن کے حصول کے لیے بھی ناگزیر ہے۔مسلم کانفرنس کی تحریک الحاق پاکستا ن درحقیقت تحریک تکمیل پاکستان ہے۔
ہر خاص وعام کو یہ بات سمجھنی اور پیش نظر رکھنی چاہیے کہ تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے اور تکمیل پاکستان کی تحریک کو کامیاب کرنے کا بہترین راستہ قائداعظم کا فرما ن کہ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے“ اور مجاہد اول کا اعلان ”کشمیر بنے گا پاکستان“ انہی دو رہنما اصولوں سے وابستہ ہے۔