2700 بیوروکریٹس میں سے صرف 1100 نے دوہری شہریت پر جواب دیا، 91 نے غیر ملکی شہریت تسلیم کرلی

دیگر نے تاحال فارم نہیں بھرے، افسران کی دہری شہریت ٹریس کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں، صحافی رؤف کلاسرا کے انکشافات

October 29, 2026 · امت خاص
2700 بیوروکریٹس میں سے صرف 1100 نے دوہری شہریت پر جواب دیا، 91 نے غیر ملکی شہریت تسلیم کرلی

2700 بیوروکریٹس میں سے صرف 1100 نے دوہری شہریت پر جواب دیا، 91 نے غیر ملکی شہریت تسلیم کرلی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے بیوروکریٹس کی دوہری شہریت کے معاملے پر پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تمام سرکاری افسران کو دوہری شہریت سے متعلق ڈکلیئریشن فارم بھیجے گئے تھے تاکہ وہ ‘ہاں’ یا ‘نہیں’ میں جواب دیں۔

اپنے ایک وی لاگ میں کلاسرا نے کہا کہ مجموعی طور پر 2700 سے 2800 افسران میں سے اب تک صرف 1100 کے قریب افسران نے اپنے فارم پُر کر کے واپس جمع کروائے ہیں، اور ان 1100 افسران میں سے صرف 91 افسران نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس غیر ملکی شہریت موجود ہے۔ دوہری شہریت کا اعتراف کرنے والے ان افسران کا تعلق ڈی ایم جی، پولیس سروس، کسٹمز، انکم ٹیکس اور دیگر اہم سرکاری گروپس سے ہے، جنہوں نے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ کے ممالک کی شہریت حاصل کر رکھی ہے۔

اجلاس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ جو افسران فارم جمع نہیں کرا رہے یا جن کا ریکارڈ موجود ہے، ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی، جس پر بتایا گیا کہ وزیراعظم کو لکھ کر سخت ڈسپلنری ایکشن کی سفارش کی جائے گی۔ تاہم اجلاس میں اس تلخ حقیقت کا بھی اعتراف کیا گیا کہ ایف آئی اے، نادرا اور انٹیلی جنس بیورو کے پاس ایسا کوئی موثر میکانزم موجود نہیں ہے جو ان افسران کو ٹریس کر سکے، کیونکہ یہ افسران یہاں سے پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں اور باہر جا کر غیر ملکی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ مزید برآں، بیوروکریسی کے اندر طویل چھٹیاں منظور کرنے اور افسران کو بچانے کا رجحان بھی اس معاملے میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

رؤف کلاسرا نے کہا کہ پاکستان کے یہ افسران کماتے یہاں سے ہیں، کھاتے یہاں سے ہیں اور وفاداریاں باہر کے ملکوں کو دے رہے ہیں،