سوڈانی فوج کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام، متحدہ عرب امارات میں 8 افراد کو عمر قید
ملزمان اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک میں ملوث تھے
ابو ظہبی: متحدہ عرب امارات کی ایک عدالت نے سوڈانی فوج کو اسلحہ اور فوجی ساز و سامان فراہم کرنے والے نیٹ ورک سے تعلق کے جرم میں 8 افراد کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
اماراتی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق ملزمان اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور منی لانڈرنگ کے نیٹ ورک میں ملوث تھے، تحقیقات میں اسلحے کی خرید و فروخت، تجارتی کمپنیوں، بینک ٹرانسفر اور نقد ادائیگیوں پر مشتمل ایک منظم نیٹ ورک بے نقاب ہوا، جس کے ذریعے سوڈانی فوج کو ہتھیار فراہم کیے جاتے تھے۔
عمر قید پانے والوں میں راشد عمر عبدالقادر علی، سوڈان کے سابق انٹیلی جنس سربراہ صلاح گوش، احمد عبداللہ المعروف عبداللہ خلف اللہ، احمد ربیع سید احمد، محمد فتح البیک، یاسر عبدالرحمان العطا، عثمان الزبیر اور ماہر عبدالجلیل شامل ہیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے گولہ بارود متحدہ عرب امارات منتقل کیا، جسے بعد میں طبی آلات اور امدادی سامان ظاہر کرکے طیارے کے ذریعے سوڈان بھیجنے کی تیاری کی گئی تھی۔
عدالت کے مطابق راشد عمر عبدالقادر اسلحے کے سودوں میں مرکزی کردار ادا کرتا تھا، جبکہ ماہر عبدالجلیل نے مالی معاملات سنبھالے اور ایک معاہدے کے تحت تقریباً 80 لاکھ درہم نقد فراہم کیے۔
خیال رہے کہ اماراتی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوڈان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔