نیتن یاہو کے انتخابی الزامات مسترد، اپوزیشن اور عرب جماعتوں کا سخت ردعمل

کسی ممکنہ انتخابی بے ضابطگی کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔اپوزیشن رہنما

October 30, 2026 · بام دنیا
نیتن یاہو کے انتخابی الزامات مسترد، اپوزیشن اور عرب جماعتوں کا سخت ردعمل

نیتن یاہو کے انتخابی الزامات مسترد، اپوزیشن اور عرب جماعتوں کا سخت ردعمل

تل ابیب: اسرائیل میں انتخابات کے بعد سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ ہوگیا ہے، اپوزیشن رہنماؤں اور عرب سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے انتخابی نتائج پر اٹھائے گئے سوالات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی عمل کو متنازع بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے ووٹ خریدنے اور بیرونی مداخلت کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ ان الزامات کے بعد اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت نے معاملے کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب قطر نے ان الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے اسرائیلی سیاست دانوں پر دوحہ کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

حتمی انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے مخالف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کو 48 نشستیں ملیں۔ عرب سیاسی جماعتوں کے دو اتحاد مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے، جس کے بعد حکومت سازی میں ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو پر انتخابی نتائج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کسی ممکنہ انتخابی بے ضابطگی کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

عرب جماعت جوائنٹ لسٹ نے بھی دھاندلی اور بیرونی فنڈنگ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جماعت کے رہنما سامی ابو شہادے کے مطابق انتخابی شکست کے بعد نسل پرستانہ الزامات کے ذریعے نتائج کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ادھر اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت نے وضاحت کی ہے کہ تحقیقات کا مقصد قانونی طریقے سے ووٹ ڈالنے والی پوری عرب برادری کو مشکوک قرار دینا نہیں ہے۔ مرکزی انتخابی کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے بھی کہا ہے کہ منظم انتخابی دھاندلی کے الزامات کے حق میں فی الحال کوئی شواہد موجود نہیں۔

انتخابی نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عرب جماعتوں کی کامیابی اور ان کے خلاف الزامات نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔