پاکستان سے تجارت بند افغانستان میں انار گل سڑ کر تباہ
تاجروں کو فی ٹرک لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
پاکستان سے تجارت بند افغانستان میں انار گل سڑ کر تباہ
قندھار: افغانستان میں پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش کے باعث انار کے کاشت کاروں اور تاجروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ قندھار میں انار کی بڑی مقدار فروخت نہ ہونے کے باعث خراب ہو رہی ہے، جبکہ تاجروں کو فی ٹرک لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں قندھار کے مقام پر انار کے بڑے ڈھیر زمین پر پڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق سرحدی راستوں کی بندش اور ترسیل میں تاخیر کے باعث پھل خراب ہو رہا ہے، جس سے انہیں فی ٹرک دسیوں لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
Afghan traders and ordinary people are paying the price for the Taliban’s failed policies.
Afghan pomegranates are rotting because border closures have cut off access to markets, destroying livelihoods and wasting months of farmers’ hard work.
The Taliban speak of independence… pic.twitter.com/QXRKLe97Rl
— Kabul International کابل انٹرنیشنل (@Kabulintlnews) October 29, 2026
رپورٹس کے مطابق پاکستان افغانستان کے قندھار سے انار کی برآمدات کی اہم منڈی رہا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث 2025 کے اواخر سے تجارتی راستوں کی بندش نے افغان پھلوں کی تجارت کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں انار کی قیمتوں میں کمی اور بڑی مقدار میں پھل ضائع ہونے کی اطلاعات ہیں۔
افغانستان کے کاشت کار اور تاجر اب روس اور بھارت سمیت متبادل منڈیوں میں انار اور دیگر پھل فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم محدود کولڈ اسٹوریج سہولیات اور متبادل راستوں سے ترسیل کے زیادہ اخراجات ان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
مقامی کسان پہلے ہی خشک سالی اور ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولیات سے متاثر ہیں۔ سرحدی بندش نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں، جس کے باعث عام کاشت کاروں اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔