آنے والے مہینے بجلی صارفین کیلئے کٹھن، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں اضافے کا خدشہ
سردیوں میں پیداواری لاگت میں اضافہ، مالی بوجھ بڑھنے کی پیشگوئی
بجلی صارفین کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور پیداواری لاگت سے متعلق جاری کردہ رپورٹ کی ایک جھلک۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دسمبر، جنوری اور فروری کے دوران ملک بھر کے بجلی صارفین کیلئے مشکلات میں اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق سردیوں کے یہ 3 ماہ مہنگی بجلی کے حوالے سے انتہائی کٹھن ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس دوران فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 2 سے 3 گنا تک بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی، کوئلے اور دیگر ایندھن کی بلند قیمتیں بجلی کی پیداواری لاگت کو انتہائی مہنگا بنا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سردیوں کے موسم میں پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے کیونکہ سرد ایام میں مقامی گیس کی فراہمی گھریلو صارفین کی ضروریات کیلئے بھی ناکافی ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں پن بجلی کی پیداوار بھی انتہائی کم ہو جاتی ہے، جس کے باعث بجلی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مہنگے ایندھن کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ عالمی منڈی میں فیول کی بلند قیمتیں بھی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو اوپر لے جانے کا باعث بن رہی ہیں۔
دوسری جانب سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی جانب سے ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر 32 ارب 66 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ سی پی پی اے حکام نے دوران سماعت بتایا کہ ستمبر میں بجلی کی اوسط فیول لاگت 10 روپے 2 پیسے فی یونٹ رہی جبکہ اس کا تخمینہ 7 روپے 46 پیسے لگایا گیا تھا۔
دستاویز کے مطابق ستمبر کے دوران بجلی کی پیداوار پر کل لاگت 127 ارب 87 کروڑ روپے رہی، جس میں مقامی کوئلے سے 7 ارب 95 کروڑ روپے، درآمدی کوئلے سے 37 ارب 14 کروڑ روپے، ڈیزل سے 13 ارب 26 کروڑ روپے اور فرنس آئل سے 11 ارب 81 کروڑ روپے کی بجلی بنائی گئی۔ اس کے علاوہ مقامی گیس سے 13 ارب 89 کروڑ روپے جبکہ ایل این جی کے ذریعے پیداوار پر 31 ارب 93 کروڑ روپے کی لاگت آئی۔ اس دوران ڈسکوز کی جانب سے مجموعی طور پر 12 ارب 76 کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی گئی۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک جانے کا خدشہ تھا جسے 2 گھنٹے کی لوڈ مینجمنٹ سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک محدود کیا گیا۔