امریکی فوج کی بڑی جنگ کی تیاری، اجتماعی قبریں بنانے کی مشق

تقریباً سات دہائیوں بعد اس نوعیت کی بڑے پیمانے پر تیاریوں کی مشق کی جا رہی ہے

October 30, 2026 · بام دنیا
امریکی فوج کی بڑی جنگ کی تیاری، اجتماعی قبریں بنانے کی مشق

امریکی فوج کی بڑی جنگ کی تیاری، اجتماعی قبریں بنانے کی مشق

امریکی فوج نے ممکنہ بڑی جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر فوجیوں کی ہلاکتوں کی صورت میں ہنگامی انتظامات کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس سلسلے میں ایک غیر معمولی فوجی مشق کے دوران عارضی تدفین کے لیے اجتماعی قبریں تیار کرنے اور انسانی باقیات کو محفوظ رکھنے کی تربیت دی گئی۔

امریکی فوج کے مطابق تقریباً سات دہائیوں بعد اس نوعیت کی بڑے پیمانے پر تیاریوں کی مشق کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد شدید جنگ کے دوران بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی صورت میں لاشوں کو عارضی طور پر محفوظ رکھنا، بعد ازاں ان کی شناخت کرنا اور میتیں اہل خانہ کے حوالے کرنے کے عمل کو جانچنا ہے۔

یہ سرگرمی آپریشن ڈریگن کوویننٹ کے دوسرے مرحلے کے تحت انجام دی گئی۔ مشق کے دوران فوجی انجینئرز نے بھاری بلڈوزروں کی مدد سے خندقیں تیار کیں اور ان میں فرضی انسانی باقیات رکھ کر تدفین کے طریقہ کار کا جائزہ لیا۔ اس بات کو بھی جانچا گیا کہ مٹی ڈالنے کے دوران باقیات کو نقصان سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

مشق کے اگلے مرحلے میں ان باقیات کو دوبارہ نکالا گیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ فرانزک ماہرین مستقبل میں شناخت کے لیے انہیں کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکال سکتے ہیں۔

امریکی فوج کے مطابق ایک معیاری عارضی تدفینی مقام میں پانچ متوازی خندقیں بنائی جا سکتی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 100 لاشوں کی گنجائش ہوگی۔

مشق کے دوران ڈی 6 بلڈوزر کے ذریعے ایک خندق تیار کرنے میں اوسطاً ایک گھنٹہ 15 منٹ لگے، جس میں تقریباً 20 انسانی باقیات رکھنے کی گنجائش تھی۔

فوجی حکام کے تخمینے کے مطابق مناسب مشینری اور مسلسل کام کی صورت میں انجینئرز کی ایک کمپنی 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار 400 تک انسانی باقیات کے لیے خندقیں تیار کرکے انہیں بند کرنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہے۔