دہشتگردوں کی مذمت کرو، طلال چوہدری نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے شرائط بتا دیں

پی ٹی آئی کو دہشتگردی کی کھل کر مذمت کرنا ہوگی اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کا ساتھ دینا ہوگا۔

October 30, 2026 · امت خاص
دہشتگردوں کی مذمت کرو، طلال چوہدری نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے شرائط بتا دیں

دہشتگردوں کی مذمت کرو، طلال چوہدری نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے شرائط بتا دیں

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے حکومتی شرائط واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ بات چیت آگے بڑھانے کے لیے پی ٹی آئی کو دہشتگردی کی کھل کر مذمت کرنا ہوگی اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کا ساتھ دینا ہوگا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہر اگلے دن تاریخ میں جو کچھ انہوں نے کیا ہے یا ہوا ہے وہ پھر بیان ہوتا رہے گا

دوسری بات یہ ہے کہ جو بہنیں ہیں ان کے متعلق کل آپوزیشن لیڈر جو سینٹ کے ہیں انہوں نے وزیر داخلہ سے کہا تھا ان کے علاج کے بارے میں کچھ باتیں کی تھی ان کی ملاقات کے لیے انہوں نے درخواست کی تھی اور اس کے بعد کل ان کی ان کی فیملی کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے ان کے گھر سے حفیظ اللہ نیازی صاحب نے ان کے علاج پر ملاقات پر حکومت کا شکریہ دا کیا ہے آج پھر اپوزیشن میں جو اپوزیشن لیڈر ہیں جو سینٹ میں انہوں نے کچھ باتیں مزید بہنوں کے بارے میں ایک درخواست کی صورت میں کی ہیں وہ بھی میں وزیر داخلہ اور حکومت کے سامنے رکھوں گا ہمارا کسی سیاسی طور پر اختلاف اپنی جگہ لیکن کسی کے آئینی قانونی انسانی حقوق چوہے اور ایک خاتون ہونے کے حوالے سے ہم زیادہ سنسٹیو ہیں اس لیے حکومت جو ہے وہ کوئی کمی کتائی نہیں برت رہی سیاست کے لیے آپ خواتین کارڈ استعمال کرتے ہیں آپ اس کی خواتین کارڈ نہ کھیلیں

آپ ہمدردی کارڈ نہ کھیلیں آپ اس بات سے سو باقی رہی بات کلیرٹی سے میں بیان کر دوں کہ کوئی بھی جو معاملہ ہے وہ پارلیمنٹ میں ہی طے ہوگا اور نہ اس سے باہر ہوگا اور نہ مذاکرات کے علاوہ اور کوئی راستہ ہے مذاکرات شروع کرنے کے لیے اس بات کو آپ کو بانگے دہل کہنا پڑے گا پورے سامنے آکے میڈیا کے کہنا دہشتگرد کو دہشتگرد کہنا پڑے گا دہشتگردی کروانے والوں کی مزمت اور ان کے خلاف کاروائی کے لیے آپ کو ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا سو مذاکرات کے لیے پری کنڈیشن ہماری طرف سے صرف یہ دو ہیں دہشتگرد کو دہشتگرد کہیں دہشتگردی کروانے والے وہ اس ملک کے اندر ہیں وہ ہمسایہ ممالک سے آ رہے ہیں وہ ہمسایہ ملک اس کو پروکسیز کے طور پر بھیج رہے ہیں

نام لے کر ان کی بات کریں اور نیشنل ایکشن پلان پر دہشتگردی کے معاملے پر یہ جو آپ شرما کے ججک کے جان بوجھ کے نرم رویہ والا جو آپ کا ایک یہ پوری آپ کی سٹرٹیجی ہے اس کو جب تک نہیں چھوڑیں گے اب اس سے آگے بات چیت نہیں بڑھے گی اور ہو سکتی ہے پاکستان کی سوورینیٹی سے بڑی کوئی اور چیز نہیں ہے ہم کوئی ذاتی بات نہیں کر رہے اپوزیشن اپنے قائدین کو عوام کی بات کب ہوگی یہ بلکل آپ نے ٹھیک کہا ہے اس کے لئے وزیراعظم نے تو وہ پٹرول سکیم ہو یا اسی طرح باقی جگہ اس میں پوری کوشش کی ہے کہ اس کرائسز میں جو پوری دنیا کا کرائسز ہے پٹرول پرائسز پوری دنیا میں بڑی ہیں

اس کے اثرات ہمارے لوگوں پر بہت زیادہ آ رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے بلکل آپ ٹھیک کہتے ہیں اس میں چاروں صوبوں کو وفاقی حکومت سے مل کے عام لوگوں کو کوئی نہ کوئی ریلیف دینا ہوگی آپ قومی اسمبلی اور سینٹ کی جو تقریریں ہیں جو قصور میں تقریریں کی گئی ہیں اس کا جواب دے دیں وہ جو تقریریں ہیں وہ آپ کو لگ رہا ہے کہ وہ ڈر والی ہیں بلکل کلائرٹی ہے ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں ریاست کی حفاظت کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں شہدا کے ساتھ کھڑے ہیں کسی قسم کا کمپرومائز شہدا پر ریاست کی استقام اور اس کی سوبرینٹی کو بچانے والے پر اور اس قسم کی چیز پر کوئی نہیں ہوگا مولانا کو دونوں چیزوں پر اپنے الفاظ پر افسوس کا اظہار بھی کرنا ہوگا اور واپس بھی لینے ہوگی ان کے بہت سارے لوگ یہ وضاحتیں دے رہے ہیں کہ وہ شہدہ کے ساتھ کھڑے ہیں وہ کہہ رہے ہیں ہمارے بچے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پاکستان پر کوئی ریاست کے ساتھ ہیں لیکن یہ مولانا کو کہنا پڑے گا