پابندیوں اور ناکہ بندی میں بھی خفیہ نیٹ ورک سے اربوں ڈالر ہتھیار وں کی ایرانی درآمدات
رائٹرز کی تحقیق میں انکشاف،ایران نے امریکی ناکہ بندی اور مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے عالمی سپلائی نیٹ ورک قائم رکھا
ایران نے میزائل اور ڈرون پروگراموں کے لیے سامان درآمد کرنے کی خاطر 5 ہزار سے زائد اداروں پر مشتمل خفیہ عالمی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، رائٹرز کی تحقیق۔
تہران: ایران نے اپنے ڈرون اور میزائل پروگراموں کے لیے ضروری پرزہ جات، دھماکا خیز مواد اور بھاری ٹرک حاصل کرنے کے لیے 5 ہزار سے زائد اداروں پر مشتمل ایک خفیہ فوجی اور مالیاتی نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے ذریعے جنوری 2025 سے اب تک کم از کم 2 ارب ڈالر مالیت کا سامان درآمد کیا گیا۔ جنگ کے دوران بھی یہ کھیپیں خشکی، سمندر اور فضائی راستوں سے ایران پہنچتی رہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی اور مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے خفیہ فوجی اداروں کا عالمی نیٹ ورک استعمال کیا۔ یہ ادارے ایسے ناموں سے کام کرتے ہیں جو ’’ودجا‘‘ (WDJA) کے حروف سے شروع ہوتے ہیں، جو ایرانی وزارتِ دفاع کا مخفف ہے۔ ان 5 ہزار سے زائد اداروں نے مل کر ایک وسیع مالیاتی اور عسکری نظام تشکیل دیا ہے، جس کے مالی لین دین کا سراغ شپنگ دستاویزات اور 2016 تک کے درآمدی ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان اداروں میں سے بعض کے تعلقات ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ’’بنیاد‘‘ کہلانے والے تجارتی گروپوں سے ہیں، جو ایرانی اشرافیہ کے کنٹرول میں ہیں۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے یہ معلوم کرنے میں مدد ملی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ہزاروں میزائل اور ڈرون داغنے کے باوجود اپنے ذخائر میں اضافہ کیسے کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق جنوری 2025 سے جون 2026 تک 18 ماہ کے دوران ان اداروں میں سے صرف ایک ادارے ’’ودجا 346428‘‘ نے میزائل ایندھن، دھماکا خیز مواد، ڈرون اور میزائلوں کی تیاری کے لیے ضروری پرزہ جات کے علاوہ بھاری ٹرکوں کی بڑی مقدار درآمد کی۔ یہ ٹرک میزائل لانچ کرنے والے پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق اس سامان کا بڑا حصہ چین، روس اور جرمنی سے آیا۔
یہ تحقیق ایرانی وزارتِ دفاع کے ہزاروں بینکنگ اور سرکاری ریکارڈز، کمپنیوں کی رجسٹریشن دستاویزات اور درآمدی ڈیٹا پر مبنی ہے۔ ان تمام خفیہ اداروں نے تہران میں ایک ہی پتے کا اندراج کر رکھا ہے، جو ایرانی وزارتِ دفاع و مسلح افواج کی معاونت کا پتہ ہے۔
تحقیق کے مطابق ان اداروں نے اپنے قیام کی تاریخ 11 فروری 1979 درج کر رکھی ہے، جو ایران میں شاہی نظام کے خاتمے اور آیت اللہ خمینی کے اقتدار سنبھالنے کا دن ہے، تاہم ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر ادارے دراصل 2013 میں قائم ہوئے، جب ایران پر پابندیوں کے باعث خام تیل کی برآمدات میں کمی اور ملکی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ آئی تھی۔
رائٹرز نے ان اداروں کی شناخت پہلی مرتبہ اسرائیلی اور امریکی رسک کنسلٹنسی فرم ’’240 اینالیٹکس‘‘ کے تعاون سے کی۔ یہ ادارے ایران کے فوجی خریداری اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے نظام کی بنیاد قرار دیے گئے ہیں۔
اس نیٹ ورک کو ایسے افراد اور غیر ملکی شیل کمپنیاں چلاتی ہیں جو بطور فرنٹ کام کرتی ہیں اور انہیں ’’امنا‘‘ (Trustees) کہا جاتا ہے۔ یہ افراد غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے سامان خریدتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اس نیٹ ورک کو ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون پروگراموں سے وابستہ سینئر فوجی کمانڈر استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے 91 اداروں کے نام پر رجسٹرڈ فون نمبرز سرکاری بینک سپہ کے ان ریکارڈز میں بھی موجود ہیں جو پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق ہیں۔ ان میں کم از کم دو ایسے کمانڈر بھی شامل ہیں جن پر امریکہ نے پُرامن شہری مظاہرین کے خلاف خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
ایرانی فوج کئی دہائیوں سے متعدد امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، تاہم رائٹرز کو کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا کہ دستاویزات میں مذکور ان اداروں میں سے کسی کو مغربی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہو۔
امریکی وزارتِ خزانہ کے سابق سینئر اہلکار میاد ملکی، جنہوں نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا پروگرام بنانے میں مدد کی، نے کہا کہ یہ نیٹ ورک ایران کے فوجی کاروباری مفادات کا ایک مربوط نظام اور جاری تنازع کے دوران اس کی عسکری شہ رگ ہے۔
تحقیق کے مطابق ہتھیاروں کی درآمد کے اس نیٹ ورک نے ایران کو میزائل اور ڈرون بنانے کے لیے درکار بڑی مقدار میں خام مال فراہم کیا۔ ان ہتھیاروں کے ذریعے خلیج میں توانائی کی تنصیبات پر حملے کیے گئے، جس سے ایران کو امریکی فوجی حملوں کے اثرات کم کرنے کا موقع ملا۔
رائٹرز نے تقریباً 19 ہزار درآمدی ریکارڈز کے ایک حصے کا جائزہ لیا اور انہیں شپنگ دستاویزات، سوشل میڈیا ویڈیوز اور سرکاری میڈیا رپورٹس سے ملایا۔ ڈیٹا کے مطابق ایران کی درآمد کردہ تقریباً تمام اشیا کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ تھیں اور انہیں خصوصی طور پر فوجی سازوسامان کے طور پر درجہ بند کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین نے نشاندہی کی کہ بہت سی درآمدات، حتیٰ کہ دھماکا خیز مواد بھی، دوہرے استعمال کی حامل ہو سکتی ہیں اور ان کے شہری مقاصد کے لیے استعمال کا امکان بھی موجود ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے 23 ستمبر کو چین سے آنے والی بعض کھیپوں سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ میاد ملکی نے کہا کہ یہ خفیہ فوجی ادارے رسمی عالمی معیشت کے متوازی ایک بیرونی تجارتی نظام چلاتے ہیں، جس کے ذریعے ایران غیر قانونی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم فوجی سازوسامان کی خریداری پر خرچ کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رقوم شاذ و نادر ہی سرحدیں عبور کرتی ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے پابندیوں کی خلاف ورزی کا سراغ مل سکتا ہے۔ اس کے بجائے درآمدی ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ رائٹرز کی جانب سے جائزہ لی گئی 97 فیصد کھیپوں کے لین دین رقم کی منتقلی کے بغیر طے کیے گئے۔ بیرونِ ملک مقیم ایرانی ثالث غیر ملکی بینکوں میں موجود رقم سے سامان خرید کر ایران بھیجتے تھے۔
اس نیٹ ورک سے فائدہ اٹھانے والوں میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگراموں کی نگرانی کرنے والی فوجی یونٹیں بھی شامل ہیں۔ ان میں ’’تندر صحرا‘‘ (رعدِ صحرا) کمپنی بھی شامل ہے، جس پر واشنگٹن نے 2024 میں روس کو یوکرین میں استعمال ہونے والے ڈرون تیار کرکے فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
رائٹرز اور 240 اینالیٹکس نے درآمدی ڈیٹا کو کمپنیوں کے ریکارڈز، ای میلز اور ’’ویکی ایران‘‘ ویب سائٹ کی جمع کردہ دستاویزات سے ملا کر ایرانی فوجی یونٹوں تک رسائی حاصل کی۔ ویکی ایران ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو اسلامی جمہوریہ سے لیک ہونے والی دستاویزات وصول کرتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اسے حکومت مخالف ایرانی شہری چلاتے ہیں جو جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے درآمدی ڈیٹا کے مطابق ایران پہنچنے والی کھیپوں میں 19 لاکھ ڈالر مالیت کے ڈیٹونیٹرز، ٹنوں کے حساب سے دھماکا خیز مواد، طیاروں کے انجنوں کے پرزے، میزائل ایندھن کے اجزا اور بھاری لانچ گاڑیاں شامل تھیں۔ ہتھیاروں اور پابندیوں کے ماہرین کے مطابق یہ تمام مواد بیلسٹک میزائل اور شاہد ڈرون سمیت مختلف ڈرونز کی تیاری اور انہیں داغنے کے لیے اہم اجزا کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے پارٹ ٹائم اسسٹنٹ پروفیسر پیٹر سالزبری نے کہا کہ یہ ایران کے موجودہ ڈرون اور میزائل ذخائر کو دوبارہ تعمیر کرنے یا ان میں توسیع کی ایک بڑی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ڈیٹا ایرانی نظام کی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور نئے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت بھی ظاہر کرتا ہے۔
سالزبری اور ایک دوسرے ماہرِ ہتھیاروں نے بتایا کہ انہوں نے ماضی میں ویکی ایران کا ڈیٹا استعمال کیا ہے اور اسے درست پایا ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون آپریشنز کو نشانہ بنایا، جن میں وہ فیکٹریاں بھی شامل تھیں جن کے بارے میں امریکی وزارتِ جنگ (پینٹاگون) نے کہا تھا کہ وہاں گولہ بارود تیار کیا جا رہا تھا۔ رائٹرز نقصانات کی مکمل حد کا تعین نہیں کر سکا، تاہم ایران اپنے پڑوسی ممالک اور آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بناتا رہا۔
درآمدی ڈیٹا اور حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق روس سے سامان بحیرۂ کیسپین کے راستے مال بردار جہازوں، وسطی ایشیا سے ٹرکوں اور چین سے کارگو طیاروں کے ذریعے ایران پہنچایا گیا۔
رائٹرز کے سوالات کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ بیان کردہ صورتِ حال سے آگاہ نہیں۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں لڑائی کو بدنیتی سے چین کے ساتھ جوڑنے یا اس کی ساکھ خراب کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع، امریکی وزارتِ خزانہ، وائٹ ہاؤس اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ ایرانی سرکاری اداروں اور کمپنیوں، جن میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے لیے ایرانی مشن اور ایرانی ایوانِ صدر بھی شامل ہیں، نے بھی تفصیلی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
تحقیق کے مطابق ایران صرف انفرادی پرزہ جات ہی نہیں بلکہ ایسی جدید مشینیں بھی درآمد کر رہا ہے جن کے ذریعے فوجی سازوسامان خود تیار کیا جا سکتا ہے۔ جون تک کے درآمدی ڈیٹا میں جدید کمپیوٹر کنٹرولڈ خراد مشینیں (CNC Lathes)، الیکٹران بیم سے چلنے والی بھٹیاں اور پارٹیکل ایکسلریٹرز کے طور پر درجہ بند آلات شامل تھے۔ ان مشینوں کے صنعتی استعمال کے علاوہ ڈرون اور میزائلوں کے ڈھانچے سمیت فوجی سازوسامان کی تیاری میں بھی استعمال کے امکانات ہیں۔
12 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں چین اور روس تہران کی مدد نہیں کر رہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر دونوں ممالک مدد کر بھی رہے ہیں تو یہ بہت محدود سطح پر ہے، تاہم ان کے خیال میں ایسا بالکل نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ممالک کے پاس بہت کچھ کھونے کے لیے ہے اور اس بارے میں جلد معلوم ہو جائے گا۔
درآمدی ڈیٹا کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی فوج کی 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کی درآمدات متحدہ عرب امارات سے آنے کے طور پر درج ہوئیں، جن میں سے تقریباً تمام کھیپیں سمندری راستے سے پہنچیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے مئی تک متحدہ عرب امارات میں بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور اب بھی ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے اس کے خام تیل کے ٹینکروں پر حملے کر رہا ہے۔
امارات سے آنے والی تازہ ترین کھیپ، جو الیکٹرانکس کے طور پر درج تھی، 27 جون کو سمندر کے راستے پہنچی۔ یہ امریکہ کی جانب سے اپنی بحری ناکہ بندی معطل کرنے کے اعلان کے نو دن بعد تھا۔ ناکہ بندی جولائی کے وسط میں دوبارہ شروع ہوئی اور رپورٹ کے مطابق اب بھی نافذ ہے۔ اماراتی حکومت نے ان کھیپوں سے متعلق تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
240 اینالیٹکس کے سینئر تجزیہ کار نوام بینسٹاک نے کہا کہ نمبرات سے شناخت کیے جانے والے یہ ادارے اسلامی جمہوریہ کے بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے والے نیٹ ورک کا پوشیدہ بنیادی ڈھانچہ ہیں۔ ان کے مطابق ان اداروں کے ذریعے منتقل ہونے والی رقوم کا حجم حیران کن ہے اور اس سے قبل اس پر توجہ نہیں دی گئی تھی۔
بینسٹاک نے بتایا کہ انہوں نے جون 2025 میں ان اداروں کا سراغ اس وقت لگایا جب وہ ویکی ایران ویب سائٹ پر مفت دستیاب بینک سپہ کی ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات 240 اینالیٹکس کے آن لائن پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کر رہے تھے۔ بینک سپہ ایرانی بینک ہے جو پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کی تنخواہیں اور پنشن ادا کرتا ہے۔
’’کوڈ بریکرز‘‘ نامی ایک گروپ نے بینک سپہ کو ہیک کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور بعد ازاں ایرانی سرکاری ڈیٹا حاصل کرنے کی دیگر کارروائیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔
رائٹرز کی اس تحقیق میں ایران کے ہتھیاروں اور پابندیوں کے ماہرین، جن میں ولف کرسچن پائس، ہنری تھامسن اور غیر قانونی سپلائی چینز اور ہتھیاروں کی خریداری پر کام کرنے والی تنظیم ’’ہیمڈال‘‘ کے بانی ڈیمین اسپلیٹرز بھی شامل تھے، سے بھی نتائج کی تصدیق کے لیے رجوع کیا گیا۔