یمنی حوثیوں کے تعز پر اسرائیل جیسے مظالم ۔سخت محاصرے میں انسانی بحران سنگین

پانی، خوراک، آکسیجن اور ادویات کی شدید قلت، ہزاروں خاندان بے گھر، صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر

October 30, 2026 · امت خاص, بام دنیا

پانی، خوراک، آکسیجن اور ادویات کی شدید قلت، ہزاروں خاندان بے گھر، صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر

یمن کے شہر تعز کے گورنر نبیل شمسان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ حوثی باغیوں کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ حوثی شہر کو پتھر کے دور میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی حاصل نہیں رہی۔

ایک بریفنگ میں نبیل شمسان نے بتایا کہ یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں قتلِ عام ہو رہا ہے، آکسیجن اور پانی کی فراہمی ختم ہو رہی ہے، جبکہ کچرا ٹھکانے لگانے کے مقامات بھر جانے یا وہاں تک رسائی نہ ہونے کے باعث گلیوں میں کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر کو روزانہ کم از کم 35 ہزار کیوبک میٹر پانی کی ضرورت ہے، لیکن روزانہ ایک ہزار کیوبک میٹر سے زیادہ پانی شہر میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔ پانی کے ٹینکروں کو شہر کے گرد قائم حوثیوں کی ناکہ بندیوں پر روک دیا جاتا ہے۔

گورنر کے مطابق خوراک کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں اور گندم کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایندھن کی قلت کے باعث ریسٹورنٹس بند ہو چکے ہیں اور شہری پتھر کے دور کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

نبیل شمسان نے بتایا کہ شہر میں تقریباً 1800 افراد کو ڈائیلیسس کی ضرورت ہے، لیکن انہیں طبی سامان تک رسائی حاصل نہیں۔ اس کے علاوہ 120 ہیلتھ سینٹرز معطل ہو چکے ہیں اور اسکول بند ہونے سے لاکھوں بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگست سے 20 اکتوبر 2026 تک عام شہریوں سمیت 64 افراد ہلاک اور مزید 173 زخمی ہو چکے ہیں۔ جنگ سے بچنے کے لیے 6 ہزار 400 سے زائد نئے بے گھر خاندانوں نے شہر میں پناہ لے رکھی ہے، جن میں ہر خاندان کے افراد کی اوسط تعداد سات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جینے کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف زندہ بچ جانے کی بات کر رہے ہیں۔

گورنر تعز کا یہ بیان حوثی رہنما عبدالمالک بدرالدین الحوثی کے مؤقف کے برعکس ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ شہر میں خوراک، ادویات اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے راستہ کھلا ہے، حتیٰ کہ سعودی حمایت یافتہ گروپ بھی شہر میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کوئی تعز کے محاصرے کی حقیقت جاننا چاہتا ہے، وہ خود شہر جا کر دیکھ سکتا ہے۔

نبیل شمسان نے کہا کہ حوثی افواج شہر کے داخلی راستوں پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر چکی ہیں اور شہر کے اندر موجود 8 لاکھ سے زائد افراد کو یہ انتخاب دیا جا رہا ہے کہ یا تو شہر چھوڑ دیں یا مرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔

انہوں نے حوثیوں پر الزام لگایا کہ وہ فوجی لڑائی کے بجائے یمن کی شناخت تبدیل کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق جن دیہات پر قبضہ کیا جا رہا ہے، وہاں کا کنٹرول نئے مذہبی رہنماؤں کے حوالے کیا جا رہا ہے جبکہ تعلیمی اور مذہبی نصاب بھی تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فوجی جنگ نہیں بلکہ انتقام کی جنگ ہے۔

گورنر کے مطابق مقبوضہ علاقوں کے لوگوں سے زیدی مذہب سے وفاداری ظاہر کرنے اور حوثی تحریک میں شمولیت کی تصدیق کرنے والے فارموں پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ہر گاؤں سے درجنوں بچوں کو والدین کی رضامندی کے بغیر صعدہ اور دیگر مقامات پر جنگی محاذوں پر بھیجنے کے احکامات دیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے تعز کے عوام کے آخری دم تک مزاحمت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض یکجہتی کے بیانات کافی نہیں، اصل ضرورت اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کو شہر تک رسائی دینے کی ہے تاکہ وہ ضروری سامان پہنچا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر پر گولہ باری میں اضافہ ہو رہا ہے اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ حوثی اب موبائل نیٹ ورکس پر بھی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور شہریوں کو مزاحمت ختم کرنے کے پیغامات بھیج رہے ہیں، جبکہ ان کی تمام گفتگو کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔

یمن کا صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر

اخبار الشرق الاوسط کے مطابق یمن میں حالیہ فوجی کشیدگی کے نتیجے میں اب تک تقریباً 10 ہزار افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جس کے باعث ملک کا پہلے سے تباہ حال صحت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز کے گرد حوثیوں کا محاصرہ مزید سخت ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدترین بحران نے یمن کے صحت کے نظام کو ایک پیچیدہ ہنگامی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس پر قابو پانا عالمی اداروں کے لیے بھی مشکل ہو رہا ہے۔

یمن کی وزارتِ صحت نے تعز میں طبی خدمات فوری طور پر بند ہونے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ گزشتہ تقریباً تین ماہ سے جاری حوثیوں کے بڑھتے ہوئے فوجی آپریشنز، شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں اور بین الاقوامی فنڈز میں غیر معمولی کمی کے باعث ادویات، طبی سامان اور آکسیجن کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔

تعز میں صحت کے حکام نے حوثی افواج پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز ایک ایمبولینس کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ شہر کے جنوب میں واقع ضلع صبر الموادم کے علاقے العواط کے ایک گاؤں سے زخمی شہری کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھی، جہاں شدید گولہ باری جاری تھی۔

حالیہ کشیدگی کے دوران ایمبولینس پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے میں ایمبولینس کا ڈرائیور اور ایک زخمی بچی ہلاک ہو گئے تھے۔ دونوں کو پہلے ہونے والی گولہ باری کے بعد علاج کے لیے منتقل کیا جا رہا تھا، جبکہ ان کے ساتھ موجود ایک نرس زخمی ہو گئی تھی۔

صوبے کے پریس حکام نے حوثیوں پر دیہی اضلاع کے ہیلتھ دفاتر اور میڈیکل سینٹرز سے 15 ایمبولینسیں لوٹنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

محاصرہ زدہ تعز میں صحت کا بحران تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ یمن کی وزارتِ صحت کے مطابق صوبے بھر میں صحت کی 42 تنصیبات ادویات، زندگی بچانے والے طبی آلات اور آکسیجن سلنڈرز ختم ہونے کے باعث چند دنوں میں مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔

ان ممکنہ بندشوں سے نوزائیدہ بچوں کے انکیوبیٹرز، انتہائی نگہداشت کے یونٹس اور سینکڑوں مریضوں کے باقاعدہ ڈائیلیسس سیشنز کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

طبی مراکز پر براہِ راست حملوں نے بھی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں حوثی مسلح افراد نے الثورہ جنرل ہسپتال پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مریض اور طبی عملہ زخمی ہو گئے۔

عوامی صحت کے حکام نے ہیضے کی وبا بے قابو ہونے کا انتباہ بھی جاری کیا ہے، جس کی شرح میں محض چند ہفتوں کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ تباہ شدہ پانی اور سیوریج کے نیٹ ورکس اور صفائی کے ناقص انتظامات بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔

ہیضے کی وبا غذائی قلت کے شدید بحران کے ساتھ مل کر مزید ہلاکت خیز ہو گئی ہے۔ بے گھر ہونے والے ہزاروں بچوں میں آلودہ پانی کے ذریعے پھیلنے والے بیکٹیریا سے لڑنے کی بنیادی قوتِ مدافعت ختم ہو چکی ہے، جس کے باعث پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک طرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب بین الاقوامی اور مقامی امدادی کارروائیوں کو شدید ترین مالی قلت کا سامنا ہے۔