آپ کے 15، ہمارے 5، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر ہے: بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی چیئرمین کا انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر نمائندگی کا مطالبہ، غیرجانبدار اصلاحات پر زور
انتخابی اصلاحات کےلیے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے، انتخابی اصلاحات غیرجانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں: بیرسٹر گوہر— فوٹو:فائل
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے 15 اور ہمارے 5، ایسے بیٹھنے سے تو نہ بیٹھنا بہتر ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی نمائندگی برابر ہونی چاہیے، جبکہ انتخابی اصلاحات غیرجانبدار اور عوامی امنگوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی انتشار کا پوری قوم مل کر مقابلہ کرتی ہے، تاہم اندرونی انتشار ملک کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ ملک میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے سیاسی رہنماؤں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر میں بعض الفاظ ادا نہ ہوتے تو بہتر تھا، جبکہ مولانا صاحب کی تقریر کے جواب میں جس طرح حملے کیے گئے وہ بھی نامناسب تھے۔ ملک میں تناؤ بہت حد تک پہنچ چکا ہے اور کشیدگی مزید نہیں بڑھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ریڈ لائن کراس کرنے والے نہیں، ہمارا مؤقف ہے کہ پاکستان پہلے اور ریاست پہلے ہے۔ سیاسی قیادت اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی دعوت پر پاکستان تحریک انصاف انتخابی اصلاحات کے لیے تعاون پر آمادہ ہوگئی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ جواب چند روز میں دیے جانے کا امکان ہے۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی 2024 کے عام انتخابات، ضمنی انتخابات، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی میں اگر کسی بھی قسم کی دھاندلی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔