پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے

امریکی شہریت رکھنے والے پوپ لیو نے 2026 کے الینوائے وسط مدتی انتخابات کے لیے اپنا ووٹ شکاگو میں بذریعہ ڈاک جمع کرا دیا ہے۔

October 31, 2026 · بام دنیا
پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے

پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے امریکی انتخابات میں بذریعہ ڈاک ووٹ ڈال کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ وہ امریکا کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ویٹیکن نے تصدیق کی ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والے پوپ لیو نے 2026 کے الینوائے وسط مدتی انتخابات کے لیے اپنا ووٹ شکاگو میں بذریعہ ڈاک جمع کرا دیا ہے۔

ویٹیکن کے دفتر برائے ابلاغ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ شہریوں کے جمہوری عمل میں شرکت کے حق اور ذمہ داری پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

بیان کے مطابق پوپ لیو نے امریکی شہری کی حیثیت سے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔ وہ اس سے قبل پیرو میں قیام کے دوران بھی جب ووٹ ڈالنے کے اہل تھے تو اپنا حق استعمال کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پوپ لیو امریکی شہر شکاگو میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اصل نام رابرٹ فرانسس پریوسٹ ہے۔ نومبر 2026 میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں الینوائے کے شہری گورنر اور امریکی سینیٹ سمیت مختلف نشستوں کے لیے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔

دوسری جانب پوپ لیو کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان اختلافات کی وجوہات میں ایران کے ساتھ جنگ اور امریکا میں تارکین وطن کے ساتھ برتاؤ جیسے معاملات شامل ہیں۔