یورپ میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس اور جرمنی میں بڑے مظاہرے
فرانس میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔ یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم رہی
یورپ میں مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس اور جرمنی میں بڑے مظاہرے
یورپ کے مختلف ممالک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کرگیا، فرانس اور جرمنی سمیت کئی ملکوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانس میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔ یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کم رہی، تاہم ممکنہ بدامنی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔
پیرس میں ہفتے کے روز احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ ایک گاڑی کو بھی آگ لگا دی گئی۔
فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق پیرس کے بعض علاقوں میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کیا گیا۔
ادھر جرمنی کے دارالحکومت برلن اور میونخ سمیت مختلف شہروں میں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ برلن میں پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔
جرمنی کے شہروں ہیمبرگ اور فرینکفرٹ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ فرینکفرٹ میں نقاب پوش مظاہرین کی جانب سے دکانوں میں لوٹ مار کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
دوسری جانب اٹلی میں طلبہ اور مزدوروں نے تنخواہوں میں اضافے اور مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ کیا، جبکہ البانیہ میں مظاہرین نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔