نئی جنگ ہوئی تو تنازع مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا ، ایرانی فوج
امریکہ کی جانب سے دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران فوری اور پہلے سے کہیں زیادہ شدید ردعمل دے گا,بریگیڈیئر جنرل محمد اکرامینیا
فائل فوٹو
تہران: ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرامینیا نے خبردار کیا ہے کہ نئی جنگ کی صورت میں تنازع مغربی ایشیا کے خطے تک محدود نہیں رہے گا۔
بریگیڈیئر جنرل محمد اکرامینیا کا کہنا ہے کہ ایران دنیا میں کہیں بھی قابل رسائی امریکی مفادات، تنصیبات اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران فوری اور پہلے سے کہیں زیادہ شدید ردعمل دے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ مستقبل میں ہونے والی ممکنہ جنگ گزشتہ جنگ کے مقابلے میں زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران کے نظریے کو محض دفاعی حکمتِ عملی سے جارحانہ حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے کا عمل ماضی میں شروع ہو چکا تھا اور حالیہ جنگ میں اس کا عملی اظہار بھی سامنے آیا ہے۔
جواب کب اور کس حد تک دینا ہے، یہ دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے ، ایرانی وزیر دفاع
دوسری جانب ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کے جواب کا دائرہ اور وقت دھمکیاں دینے والے طے نہیں کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’کسی بھی جارحیت کا متناسب، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر دفاع کا یہ بیان ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے فوجی کمانڈروں کو کسی بھی خطرے کا ’فوری‘ اور ’جغرافیائی حدود کی پابندی کے بغیر جواب دینے کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
مہرداد اخلاقی نے کہا کہ ’اس حکم پر عمل درآمد کے لیے مسلح افواج کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ دفاعی سازوسامان اور ہتھیاروں کی تیاری، پیداوار اور فراہمی کے عمل کو تیز کرنا، صنعتی اور تکنیکی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور مسلح افواج کو مدد فراہم کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا ان اقدامات میں شامل ہے جن پر کام کیا جا رہا ہے۔‘