پاکستان اور سعودی عرب کا میڈیا اور ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دونوں ممالک کے درمیان میڈیا، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کا میڈیا اور ثقافتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے اطلاعات، نشریات، میڈیا اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ سے پاکستان میں تعینات سعودی سفیر راجع بن طامی البقمی نے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان میڈیا، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر عطاء اللہ تارڑ نے سعودی سفیر کو پاکستان میں ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی، مذہبی اور عوامی بنیادوں پر قائم ہیں اور وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ڈرامہ، موسیقی، سیاحت اور میڈیا کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے پاکستانی ڈراموں کو سعودی عرب میں متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستانی ڈرامے خاندانی اقدار اور مشرقی روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے دونوں ممالک کے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، موسیقاروں، صحافیوں اور ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں کے وفود کے تبادلے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستانی شہری فرمان علی خان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2009 میں جدہ کے سیلاب کے دوران متعدد افراد کی جانیں بچا کر دونوں ممالک کے درمیان محبت اور بھائی چارے کی مثال قائم کی۔
وفاقی وزیر نے سعودی میڈیا نمائندوں، سیاحوں اور سوشل میڈیا شخصیات کو پاکستان کے سیاحتی مقامات کے دورے کی دعوت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قدرتی حسن اور تاریخی مقامات سے مالا مال ہے۔
ملاقات میں غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈے کی روک تھام، حقائق کی جانچ پڑتال کے مؤثر نظام اور مشترکہ ثقافتی مواد کی تیاری پر بھی بات ہوئی۔ عطاء اللہ تارڑ نے اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے نمائندوں اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔
اس موقع پر سعودی سفیر راجع بن طامی البقمی نے پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط برادرانہ تعلقات، باہمی اعتماد اور سیاسی و عسکری تعاون کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے ثقافت، ادب، فنون اور میڈیا کے شعبوں میں روابط مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔