امریکی وسط مدتی انتخابات میں خلا سے بھی ووٹ کاسٹ

زمین سے سیکڑوں میل دور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود تین امریکی خلا بازوں نے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

November 4, 2026 · بام دنیا
امریکی وسط مدتی انتخابات میں خلا سے بھی ووٹ کاسٹ

امریکی وسط مدتی انتخابات میں خلا سے بھی ووٹ کاسٹ

واشنگٹن: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ کا ایک منفرد واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں زمین سے سیکڑوں میل دور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود تین امریکی خلا بازوں نے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

ناسا کے خلا باز انیل مینن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہوں نے بتایا کہ خلائی مدار میں موجود ہونے کے باوجود انہیں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی گئی۔

ویڈیو میں انیل مینن نے خلائی اسٹیشن کے اندر ایک مخصوص جگہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ خلا میں رہتے ہوئے بھی امریکی شہری اپنا ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کے ساتھ موجود خلا باز جیسیکا واٹکنز اور لیوک ڈیلینی نے بھی برقی بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالے اور انہیں محفوظ طریقے سے امریکی انتخابی حکام تک پہنچایا۔

اس مقصد کے لیے ناسا کے مواصلاتی نظام سے مدد لی گئی۔ خلائی اسٹیشن سے بھیجے گئے ووٹ پہلے زمینی مراکز تک پہنچے، جہاں سے انہیں متعلقہ علاقوں کے انتخابی دفاتر کو منتقل کیا گیا۔

ناسا کے مطابق ووٹنگ کے دوران ووٹ کی رازداری اور تحفظ یقینی بنانے کے لیے خصوصی خفیہ کاری کا نظام استعمال کیا جاتا ہے، جس کے تحت مکمل شدہ بیلٹ تک صرف متعلقہ خلا باز اور مجاز انتخابی حکام ہی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی خلا بازوں کو خلا سے ووٹ ڈالنے کی سہولت 1997 میں فراہم کی گئی تھی۔ اس مقصد کے لیے ریاست ٹیکساس نے قانون سازی کی تھی تاکہ خلائی مشن پر موجود ناسا کے اہلکار بھی انتخابی عمل میں حصہ لے سکیں۔

روس کے خلائی اسٹیشن میر میں موجود امریکی خلا باز ڈیوڈ وولف خلا سے ووٹ ڈالنے والے پہلے امریکی شہری قرار پائے تھے۔