78 سال کی اصلاحات ڈیڑھ سال میں ممکن نہیں، وزیر خزانہ
سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری ہے جبکہ 26 اداروں کی نجکاری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
78 سال کی اصلاحات ڈیڑھ سال میں ممکن نہیں، وزیر خزانہ
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں 78 سال کے دوران جو اصلاحات نہیں ہو سکیں، انہیں صرف ایک سے ڈیڑھ سال میں مکمل کرنا ممکن نہیں۔
اسلام آباد میں پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارے کے زیرِ اہتمام کانفرنس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری اداروں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت پاسکو، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن اور پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کابینہ کی سرکاری اداروں سے متعلق کمیٹی میں اداروں کی تنظیمِ نو اور حجم میں کمی کے معاملات پر کام کیا گیا۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے پیش کی گئی اصلاحاتی رپورٹ بھی معاون ثابت ہوئی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری ہے جبکہ 26 اداروں کی نجکاری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت حسین نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے ثمرات ملک کے ہر گھر تک پہنچانا ضروری ہے۔