امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی لہر دوڑا دی
امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو سرمایہ کاروں نے مثبت پیش رفت سمجھا، جس کے باعث حصص کی خریداری میں اضافہ ہوا۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی لہر دوڑا دی
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز کاروبار کے دوران نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی، جہاں مارکیٹ کے اہم ترین اشاریے کے ایس ای 100 میں 2643 پوائنٹس سے زائد اضافہ ہوا۔
کاروباری دن کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا گیا اور دن بھر حصص کی خریداری کا سلسلہ جاری رہا۔ اس اضافے کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 17 ہزار 695 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا رجحان مزید مضبوط ہوا۔ ان کے بقول امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کو سرمایہ کاروں نے مثبت پیش رفت سمجھا، جس کے باعث حصص کی خریداری میں اضافہ ہوا۔
ڈارسن سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو ملک دل آویز نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی بھی پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی ایک اہم وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتخابی نتائج کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے اور جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
ملک دل آویز کے مطابق ایرانی قیادت کی جانب سے نسبتاً لچکدار رویے کے اشاروں نے بھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سیاسی صورتحال میں ممکنہ بہتری کی امید نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا، جس کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی صورت میں سامنے آئے۔