فریج، اے سی اور واشنگ مشین پر ٹیکس اسٹیمپ لازمی قرار

درآمد کی جانے والی متعلقہ مصنوعات پر بھی ٹیکس اسٹیمپ نصب کرنے کے ساتھ اسے فعال کرنا ضروری ہوگا

November 4, 2026 · قومی
فریج، اے سی اور واشنگ مشین پر ٹیکس اسٹیمپ لازمی قرار

فریج، اے سی اور واشنگ مشین پر ٹیکس اسٹیمپ لازمی قرار

کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے گھریلو برقی مصنوعات پر ٹیکس اسٹیمپ لگانے کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت متعدد نئی اشیاء کی فروخت اور درآمد کے لیے ٹیکس اسٹیمپ لگانا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایئر کنڈیشنر، فریج، فریزر، واشنگ مشین اور ٹیلی ویژن کو نئے قواعد میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹوریج بیٹریاں بھی اب ٹیکس اسٹیمپ کے نظام کے تحت آئیں گی۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ درآمد کی جانے والی متعلقہ مصنوعات پر بھی ٹیکس اسٹیمپ نصب کرنے کے ساتھ اسے فعال کرنا ضروری ہوگا۔ اسٹیمپ کے بغیر درآمدی سامان کی کسٹمز کلیئرنس نہیں ہو سکے گی، جبکہ کلیئرنس سے پہلے اسٹیمپ کی تنصیب اور فعالیت مکمل کرنا ہوگی۔

ایف بی آر کے مطابق ریٹیل اور آٹو کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی اسٹوریج بیٹریاں بھی نئے ضوابط میں شامل ہوں گی، تاہم بیٹریوں کے الگ پرزوں پر ان قواعد کا اطلاق نہیں ہوگا۔ سرکاری ملکیتی اداروں کو بھی نئے نظام کے دائرے میں شامل کر لیا گیا ہے۔

نئے قواعد کے تحت ٹیکس اسٹیمپ متعلقہ مصنوعات اور ان کی پیکنگ دونوں پر لگانا ہوگا۔ ہر لائسنس صرف ایک مخصوص پروڈکٹ کی نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور لائسنس رکھنے والا کسی دوسری مصنوعات کی ٹریکنگ نہیں کر سکے گا۔ پہلے سے جاری کیے گئے لائسنس بھی اسی پابندی کے تابع ہوں گے۔

ایف بی آر نے لائسنس کے حصول کے لیے درخواست گزار کے کمپنی ہونے کی شرط بھی ختم کر دی ہے، جس کے بعد کوئی بھی اہل فرد یا ادارہ لائسنس حاصل کر سکے گا۔ لائسنس ہولڈر کے لیے ٹیکس اسٹیمپ کے نظام کی تنصیب اور اس کی مرمت کی ذمہ داری بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ٹریکنگ نظام سے حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا حکومت پاکستان کی ملکیت ہوگا۔ لائسنس کی مدت مکمل ہونے پر متعلقہ ڈیٹا اور کوڈز ایف بی آر کے حوالے کرنا ہوں گے۔